Book Name:Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!ہمارا مُعامَلہ یہ ہے کہ ہم اپنی مرضی سے گفتگو اور کلام کرتےہیں، مگر ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان یہ ہے کہ آپ کلام اُس وقْت فرماتے تھے جب وحیِ الٰہی ہوتی تھی،چنانچہ
پارہ27سُوْرَۃُ النَّجْم کی آیت نمبر 3اور 4 میں اِرشاد ہوتا ہے:
وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴) (پ۲۷، النجم: ۳، ۴)
ترجمۂ کنزُ العِرفان:اور وہ کوئی بات خواہش سے نہیں کہتے۔ وہ وحی ہی ہوتی ہے جو اُنہیں کی جاتی ہے۔
شانِ نزول :غیر مسلم یہ کہتے تھے کہ قرآن،اللہ پاک کا کلام نہیں بلکہ محمد (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے اُسے اپنی طرف سے بنا لیا ہے،اِس کا رد کرتے ہوئے اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا:میرے حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جو کلام تمہارے پاس لے کر آئے ہیں ، اُس کی کوئی بات وہ اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ اُس قرآن کی ہر بات وہ وحی ہی ہوتی ہے جو اُنہیں اللہ پاک کی طرف سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ذریعے کی جاتی ہے۔([1])
جبکہ حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیہ فرماتے ہیں:اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نبی اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں فرماتےجو کچھ فرماتے ہیں وہ ربّ کی وحی ہوتی ہے، اِس کے دو(2) مطلب ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے کو بَحرِ تَوحید(تَوحید کے سَمُندر) میں اِس طرح فنا(گم) کردیا، کہ جو بات اُن کے منہ سے نکلتی ہے، زبان تو محبوب کی ہوتی ہے، مگر کلام ربّ کا ہوتا