Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

Book Name:Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

کو بڑھاپے کا سہارا سمجھتے ہیں، یہ ایک اچھی اُمِّید ہے ورنہ بیٹا بڑا ہو کر باپ کا سہارا بنے گا یا نہیں...!! یہ نصیب کی بات ہے جبکہ بیٹی تَو یُوں سمجھ لیجئے کہ گویا جنّت کا ٹکٹ ہے۔ ہم اللہ پاک کی رضا کے طلب گار ہو کر، نیک نیتی سے، خوش دِلی سے بیٹی کی اچھی دیکھ بھال کریں گےتَو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم!جنّت میں آقا کا پڑوس پانے کے حقدار ہو جائیں گے۔

(3): یتیم کی پرورش

پیارے اسلامی بھائیو! جنّت میں آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کا پڑوس دِلانے والا تیسرا عَمَل ہے: یتیم کی پرورش کرنا۔ جنّت بانٹنے والے آقا، محبوبِ خُدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کا فرمانِ عالی شان ہے: جس نے 3یتیم بچوں کی کفالت کی وہ رات کوعبادت کرنے، دن کو روزہ رکھنے اور صبح وشام اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، میں اور وہ جنت میں یوں ایک ساتھ ہوں گے جیسے یہ 2 انگلیاں، پھر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    نے شہادت اور بیچ والی انگلی کو ملایا۔([1])  

بخاری شریف کی حدیثِ پاک میں صرف ایک یتیم کی کفالت پر بھی یہی خوشخبری سُنائی گئی ہے۔ البتہ! اس روایت میں تھوڑا سا فرق یہ بیان ہوا ہے کہ جب حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    نے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا تو دونوں انگلیوں کے درمیان کچھ فاصلہ رکھا۔([2])  

سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! کیا شان ہے...!! یتیم بچوں کی پرورش کیجئے! ان کی دیکھ بھال کیا کیجئے! اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! جنّت میں آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کا پڑوس نصیب


 

 



[1]...ابن ماجہ، کتاب الادب، باب حق الیتیم، صفحہ:593،حدیث: 3680۔

[2]...بخاری، کتاب الطلاق، باب اللعان،صفحہ:1361، حدیث:5304۔