Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

Book Name:Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

دَرِ مصطفےٰ سب سے بڑا سخی دربار ہے۔ یہاں مانگتے ہوئے جھجکنا نہیں پڑتا، شرمانا نہیں ہوتا، یہ خوف نہیں ہوتا کہ یہ چیز مانگوں تو مل بھی سکے گی کہ نہیں بلکہ

دیکھئے! حضرت رَبِیعَہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے مانگا، بےجھجک مانگا او ر کیا کیا مانگا؟ایمان پر خاتمہ مانگا (کیونکہ جس کا ایمان پر خاتمہ نہ ہو، وہ جنت میں جا ہی نہیں سکتا)، نیکیوں کی توفیق مانگی (کیونکہ جنّت میں داخِلہ اللہ پاک کی رحمت سے ملتا ہے مگر وہاں بلند درجات نیک اعمال کے مطابق ملتے ہیں)، روزِ قیامت اَعْمال کی قبولیت مانگی (کہ جس کے اعمال قبول ہی نہ ہوں، رَدّکردئیے جائیں، وہ جنّت میں بلند مقام کیسے پا سکے گا)، پِھر جنّت میں بہت اُونچا مرتبہ بھی مانگا اور اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    نے یہ سب کچھ اپنے صحابی رَضِیَ اللہُ عنہ کو عطا فرما دیا، اس سے معلوم ہوا کہ ہم بھی حُضُور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    سے ایمان، مال، اولاد، عزّت، جنّت سب کچھ مانگ سکتے ہیں، یہ مانگنا سُنّتِ صحابہ ہے۔([1])

مانگنے کا شُعُور بھی چاہئے

پیارے اسلامی بھائیو! ہم بارگاہِ رسالت سے جو چاہیں مانگ سکتے ہیں اور رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    عطا بھی فرماتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ مانگنا بھی ایک ڈھنگ ہے، آدمی کو مانگنا بھی تو آنا چاہئے۔ یقیناً پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    سے دِین و دُنیا کی ہر بھلائی مانگ سکتے ہیں مگر آپ خود غور فرمائیں، مدینۂ مُنَوَّرہ حاضِری ہو، بندہ سنہری جالیوں کے سامنے کھڑا ہو اور چھوٹی موٹی کوئی چیز مانگے، اچھا لگے گا؟ دَرْ بڑا ہے تو چیز بھی تو بڑی مانگیں،دیکھئے! حضرت رَبِیعَہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے کیا عظیم نعمت مانگی؛


 

 



[1]...مرآۃ المناجیح،جلد:2،صفحہ:84 بتغیر قلیل۔