Book Name:Jannat Mein Aaqa Ka Parosi
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مختارِ کل ہیں
پیارے اسلامی بھائیو!اس ایمان افروز روایت سے ہمیں بہت سارے سبق سیکھنے کو ملتے ہیں۔ مثلاً ایک بات تو یہ سیکھنے کو ملی کہ ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مختارِ کُل ہیں، آپ کو اِخْتیار دیا گیا ہے کہ جس کو جو چاہیں، جب چاہیں، جیسے چاہیں عطا فرما دیں۔ اسی لئے تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حضرت رَبِیعَہ رَضِیَ اللہُ عنہ کو مطلقاً (یعنی بغیر کسی قید و بند کے) فرمایا:سَلْ یعنی مانگ کیا مانگتا ہے؟(یعنی اے رَبِیعَہ! کوئی روک ٹوک نہیں *ہم سے دُنیا مانگو * آخرت مانگو *مال و دولت مانگو *لمبی زندگی مانگو *خوشیاں مانگو *عزّت و مرتبہ مانگو *جنّت مانگو *اللہ پاک کا قرب مانگو، جو بھی مانگو گے ملے گا)۔ یقیناً ایسی کھلی پیشکش(Offer) وہی کر سکتا ہے، جس کے پاس کھلے اختیارات ہوں جبکہ ہمارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حضرت رَبِیعَہ رَضِیَ اللہُ عنہ کو یہ پیشکش فرمائی تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو اختیارات عطا فرمائے ہیں کہ جس کو جو چاہیں، جب چاہیں، جیسے چاہیں عطا فرما سکتے ہیں۔
بارگاہِ رسالت سے کیا مانگ سکتے ہیں
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت رَبِیعَہ رَضِیَ اللہُ عنہ کے واقعہ سے دُوسری بات یہ سیکھنے کو ملی کہ بارگاہِ رسالت میں مانگنے سے شرم، جھجک(Hesitation) نہیں ہونی چاہئے، یہ دُنیا کے بادشاہ اور امیر کبیر ہوتے ہیں کہ جہاں منگتے کو مانگتے ہوئے بھی سوچنا پڑتا ہے، مانگتے ہوئے بھی ڈر لگتا کہ یہ مانگ لُوں تو یہ دے پائے گا کہ نہیں، فُلاں چیز مانگوں تو کہیں ناراض (Angry) ہی نہ ہو جائے۔