Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

Book Name:Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

ایمان تازہ ہو جائے گا۔ موضوع اس عظیم الشان اور اعلیٰ ترین نعمت سے متعلق ہے کہ ایک سچّا عاشِقِ رسول زندگی بھر اس نعمت کی خواہش کرتا، اس کے لئے تڑپتا، اس کی دُعائیں کرتا اور اللہ پاک کی رحمت سے اُمِّید لگائے یہ نعمت ملنے کا مُنْتَظِر رہتا ہے۔ موضوع کیا ہے؟ ذرا دِل پر ہاتھ رکھ کر سنیئے! ہمارا آج کا موضوع ہے: جنّت میں آقا کا پڑوسی۔

کیسا اِیمان اَفْروز موضوع(Faith-Inspiring Topic) ہے...!!

یہ عاشقوں کی تمنّا ہوتی ہے کہ اللہ پاک کی رحمت اور پیارے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کی شفاعت سے اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! جنّت تو مِل ہی جائے گی، کاش! جنّت میں آقا کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کا پڑوس بھی نصیب ہو جائے۔ ہم اپنی اس تمنّا کو پُورا کرنے، اس عظیمُ الشّان نعمت کے حق دار بننے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ اس کے لئے آج ہم اُن نیک اَعْمال کا ذِکْر سنیں گے، جن پر جنّت میں آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کا پڑوس ملنے کی خوشخبری سُنائی گئی ہے۔ سب سے پہلے آئیے! ایک ایمان افروز حدیثِ پاک سنتے ہیں:

جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

حضرت رَبِیعَہ اسلمی رَضِیَ اللہُ عنہ صحابئ رسول ہیں، اَصْحابِ صُفَّہ میں سے ہیں، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کے خادِم تھے، سَفَر و حضر میں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کے ساتھ رہنے کا شرف پاتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں: میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کے حجرہ شریف کے قریب ہی رات گزارتا تھا (تاکہ وُضو کیلئے پانی یا مسواک وغیرہ کسی چیز کی حاجت ہو تو پیش کر سکوں)،آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کی عادتِ کریمہ تھی