Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

Book Name:Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم   ! جنّت میں آپ کا پڑوس مانگتا ہوں۔

آقا کا پڑوس ہی مانگا کیجئے!

پیارے اسلامی بھائیو! یقیناً دِین و دُنیا کی سب بھلائیاں ہمیں محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کے صدقے ہی میں مِل رہی ہیں، آئندہ بھی جو کچھ ملے گا، حُضُور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    کے صدقے ہی ملے گا، البتہ ہمیں چاہئے کہ دِل میں صِرْف ایک ہی تمنّا رکھا کریں: مجھے جنّت میں آقا کا پڑوس چاہئے۔ اس سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ (Compromise)نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم سے یہی سبق سیکھنے کو ملتا ہے۔ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    حضرت اُمِّ عمارہ رَضِیَ اللہُ عنہا کے بیٹے سے مخاطِب تھے اور فرما رہے تھے: اللہ پاک تم سب اَہْلِ خانہ(Family) پر برکتیں نازِل فرمائے! تمہاری ماں کا مقام فُلاں سے بہتر ہے، تمہارے ربیب (یعنی سوتیلے والد) کا مقام فُلاں کے مقام سے بہتر ہے، تمہارا مقام فُلاں کے مقام سے بہتر ہے۔ حضرت اُمِّ عمارہ رَضِیَ اللہُ عنہا نے یہ بات سُنی تو عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم   ! ہمارے لئے دُعا فرمائیے کہ جنّت میں آپ کا پڑوس نصیب ہو جائے۔ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    نے دُعا فرمائی:اَللّٰهُمّ اجْعَلْهُمْ رُفَقَائِي فِي الْجَنّةِ اے اللہ پاک! انہیں جنّت میں میرا ساتھی بنا دے۔ یہ دُعائے مصطفےٰ سُنی تو حضرت اُمِّ عمارہ رَضِیَ اللہُ عنہا نے جوش سے کہا: مَا اُبَالِیْ مَا اَصَابَنِیْ مِنَ الدُّنْیَا اب مجھے دُنیا میں کیا پہنچتا ہے، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔([1])


 

 



[1]...كتاب المغازی، غزوۃ احد، جلد:1، صفحہ:238 خلاصۃً۔