Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

Book Name:Jannat Mein Aaqa Ka Parosi

کہ رات کو جب بیدار ہوتے تو پڑھتے:سُبْحٰنَ اللہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن،سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ ([1])

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، تاجدارِ دوجہاں صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    نیند سے بیدار ہوئے تو میں وُضُو کے لئے پانی اور مسواک وغیرہ لے کر حاضِر ہو گیا۔(میری یہ خِدْمت دیکھ کر دریائے کرم جوش پر آ گیا، سخیوں کے سخی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    نے عطاؤں کا دروازہ کھولتے ہوئے) فرمایا: سَلْ! اے رَبِیعَہ! مانگو! میں نے عرض کیا: اَسْاَ   لُکَ مُرَافَقَتَکَ  فِیْ الْجَنَّۃِ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم   !میں آپ سے جنّت میں آپ کا پڑوس مانگتا ہوں۔([2])

مانگنے کو تو حضرت رَبِیعَہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے سب کچھ ہی مانگ لیا تھا مگر میرے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    سخیوں کے سخی ہیں، آپ کی عطاؤں کی شان ہی نِرالی ہے۔

حضرت رَبِیعَہ رَضِیَ اللہُ عنہ جنّت میں آقا کا پڑوس مانگ چکے تھے، سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    نے فرمایا: اَوَ غَیْرَ ذٰلِکَ یعنی کیا کچھ اور بھی چاہئے؟ عرض کیا: ہُوَ ذٰاکَ یعنی یہی درکار ہے۔([3])

پیارے اسلامی بھائیو!حضرت رَبِیعَہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم   ! یہی طلب ہے کہ جنّت میں آپ کا پڑوس نصیب ہو جائے، اس پر رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم    نے فرمایا: فَاَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُود یعنی کثرت سے سجدے کر کے اپنے نفس پر میری مدد کر!([4])


 

 



[1]...نسائی،کتاب قیام اللیل و تطوع النہار،باب ذکر ما یستفتح بہ القیام،صفحہ:282،حدیث:1615۔

[2]...مسلم،کتاب الصلاۃ ،باب فضل السجود و الحث علیہ،صفحہ:184،حدیث:489ملتقطًا۔

[3]...مسلم،کتاب الصلاۃ ،باب فضل السجود و الحث علیہ،صفحہ:184،حدیث:489۔

[4]...مسلم،کتاب الصلاۃ ،باب فضل السجود و الحث علیہ،صفحہ:184،حدیث:489۔