Book Name:Imam e Jafar Ki Mubarak Aadatein
وقت ضائع نہیں کرتے تھے، اپنا اَکْثَر بلکہ سارا ہی وقت نیکیوں میں گزارا کرتے تھے۔ اِمام مالِک رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں ایک زمانے تک اِمام جعفر صادِق رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خِدْمت میں جاتا رہا، میں نے ہمیشہ آپ کو 3عِبَادتوں میں سے ایک میں مَصْرُوف پایا (1):یا تو آپ نماز پڑھتے ہوئے ملتے (2):یا روزہ دار ہوتے (3):یا پِھر تِلاوتِ قرآن میں مَشْغُول ہوتے تھے ۔([1])
دُنیوی فِکْروں میں رہنا ہلاکت کا سبب ہے
حضرت عبد اللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، حُضُورِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جس نے اپنی تمام فِکْروں کو صِرْف ایک فِکْر یعنی فِکْرِ آخرت بنا دیا تو اللہ پاک اسے اس کی دُنیا کی فِکْر کے لئے کافِی ہے اور جس کی فِکْریں دُنیا کے اَحْوال میں مشغول رہیں تو اللہ پاک کو اس کی پرواہ نہیں ہو گی کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو رہا ہے۔([2])
اے عاشقانِ رسول!کاش! ہمیں فِکْرِ آخرت نصیب ہو جائے۔ یہ فِکْر مل گئی تو اِنْ شَآءَاللہُ الْکَرِیْم!زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے کی تڑپ اور عِبَادت پر استقامت بھی مِل ہی جائے گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اِمام جعفر صادِق رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نصیحتیں
حضرت سُفیان ثَوْریرَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حضرت اِمام جعفرصادِق رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ سے عرض کی: میں اس وقت تک نہیں اٹھوں گا جب تک آپ مجھے کوئی نصیحت نہ فرمائیں۔ آپ رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ