Book Name:Imam e Jafar Ki Mubarak Aadatein
*لالچ بہت ہی بُری خَصْلَت اور نِہایَت خراب عادت ہے،اللہپاک کی طرف سے بندے کو جو رِزْق و نعمت اور مال و دَولت یا جاہ (یعنی عزّت )ومَرتَبہ مِلا ہے،اُس پر راضی ہو کر قناعت کرلینی چاہئے۔(جنتی زیور،۱۱۰ملخصاً) *جس کی للچائی نظریں لوگوں کے قبضے میں مال کو دیکھتی رہیں وہ ہمیشہ غمگین رہے گا۔(رسالہ قشیریۃ،۱۹۸)*بلعم بن باعوراء جو بہت بڑا عالم اور مستجاب الدعوات تھا،حرص و لالچ نے اسے دنیا و آخرت میں تباہ و برباد کر دیا۔(ملفوظات اعلی حضرت،ص۳۶۷ ماخوذاً) *اللہ پاک فرماتا ہے :وہ شخص میرے نزدیک سب سے زیادہ مالدار ہے جو میری دی ہوئی چیز پر سب سے زیادہ قناعت کرنے والا ہے۔(ابنِ عساکر ،موسیٰ بن عمران بن یصھر بن قامث،۶۱/ ۱۳۹ملخصاً) *اگر انسان کے پاس مال کی دو (2)وادِیاں بھی ہوں تو وہ تیسری وادی کی تمنّا کر ے گا اور اِبنِ آدم کے پیٹ کو قبْر کی مِٹّی کے سِوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔( مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب لوان لابن آدم وادیین لابتغی ثالثاً ،ص۴۰۴، حدیث:۲۴۱۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اجتماع کے شیڈول کےمطابق”نیند سے بیدار ہونے کی دعا“یادکروائی جائےگی۔وہ دُعایہ ہے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَيْهِ النُّشُورُ۔ (بخاری، 4/193، حدیث :6314)
ترجَمہ: تمام تعریفیں اللہ تعالی کےلئے جس نے ہمیں موت (نیند) کے بعد حیات (بیداری) عطا فرمائی اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ (مدنی پنج سورہ، ص203)