Book Name:Imam e Jafar Ki Mubarak Aadatein
مال و دولت اور دیگر نعمتوں میں دوسروں کو شریک کرنے کی عادَت بنائیں۔
رَبّ کے دئیے میں سے خرچ کیجئے!
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸) اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(۹)(پارہ:29، اَلْدَّھر:7تا9)
تَرجَمہ کَنْزُ الْعِرْفان: اور وہ اللہ کی مَحبّت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کوکھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم تمہیں خاص اللہ کی رضاکے لئے کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
یعنی اللہ پاک کے وہ نیک اور مقبول بندے جنہیں جنّت عطا کی جائے گی، جو جنّتی چشموں سے پئیں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو دُنیا میں *اللہ پاک کی محبّت میں غریبوں، مسکینوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور *مخلص ایسے ہیں کہ کہتے ہیں: ہم نے تمہیں اللہ پاک کی رضا کے لئے کھلایا ہے، ہم تم سے کسی قسم کی جزا یا شکریہ کا ارادہ نہیں کرتے۔
سُبْحٰنَ اللہ!اللہ پاک ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے۔ ہم بھی دوسروں کو کھلانے پلانے والے بنیں، اللہ پاک نے جو نعمتیں ہمیں عطا فرمائی ہیں، ان میں دوسروں کو شریک کیا کریں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اِمام جعفر صادق اور موت کی یاد
پیارے اسلامی بھائیو! اِمام جعفر صادِق رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی پیاری عادات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ موت کو کَثْرت سے یاد کیا کرتے تھے۔ آپ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ رات کو قبرستان تشریف لے جایا کرتے اور فرماتے: اے قبر والو! کیا بات ہے؟ میں تم لوگوں کو پُکارتا ہوں