Book Name:Faizan e Ameer e Muawiya
ہی میں پیدا ہوئے ❷:پھر ارشاد ہوا؛ مُہَاجَرُہٗ بِطَیْبَۃَ طیبہ اُن کا مقامِ ہجرت ہو گا۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے ❸: تیسرے نمبر پر ارشاد ہوا: وَ مُلْکُہٗ بِالشَّامِ یعنی ملکِ شام اُن کا مقامِ سلطنت ہو گا۔
یہ بات بظاہِر عجیب ہے کیونکہ سردارِ مکہ مکرمہ، سرکارِ مدینہ منورہ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہِری زِندگی مبارک میں ملکِ شام پر غیر مسلموں کی حکومت تھی اور آخر تک وہاں غیر مسلموں ہی کی حکومت رہی۔ یعنی ویسے تو حُضُور،جانِ کائنات صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم ساری کائنات کے مالِک و مختار ہیں مگر ظاہِری اعتبار سے 63 سالہ مبارک زندگی میں کبھی مُلْکِ شام آپ کا مقامِ حکومت نہیں رہا، پھر تورات شریف میں یہ کیسے فرما دیا گیا کہ وَ مُلْکُہٗ بِالشَّامِ (مُلکِ شام مُحَمَّد صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی بادشاہت کامقام ہو گا) ؟
آئیے! اس سُوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ذرا تاریخ میں غور کرتے ہیں؛ *پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم اپنی ظاہِری زندگی مبارک میں مدینہ منورہ ہی میں قیام فرما رہے *آپ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ہوئے، اس وقت بھی دار الخلافہ مدینہ منورہ ہی تھا *پھر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ دوسرے خلیفہ ہوئے، اس وقت بھی دار الخلافہ مدینہ منورہ ہی تھا *پھر حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ تیسرے خلیفہ ہوئے، اس وقت بھی دار الخلافہ مدینہ منورہ ہی تھا *پھر مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ چوتھے خلیفہ ہوئے، آپ نے کُوفہ کو دار الخلافہ بنایا *پھر امامِ حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ پانچویں خلیفہ ہوئے، اس وقت بھی دار الخلافہ کُوفہ تھا *یہاں آکر خِلافتِ راشدہ کی مُدَّت کے 30