Faizan e Ameer e Muawiya

Book Name:Faizan e Ameer e Muawiya

شریف میں ان کی بادشاہت کا ذِکْر فرمایا مگر کیسے؟ کیاان کا ذِکْر کر کے ؟ نہیں، نہیں، اللہ پاک نے وَصْف بیان کیا اپنےمحبوب صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا اور اُس وَصْفِ پاک کے آئینہ دار بنے حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ ۔معلوم ہوا؛ ہم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی شان بیان کریں تو یہ صِرْف شانِ صحابہ کا بیان نہیں بلکہ نعتِ مصطفےٰ بھی ہے *جب ہم حضرت صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی شان بیان کریں *حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی شان بیان کریں *حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی شان بیان کریں *حضرت مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی شان بیان کریں *حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی شان بیان کریں *کسی بھی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی شان بیان کریں تو یہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی منقبت تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ نعتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بھی ہے کہ ان سب کو جو بھی شان ملی، جو بھی رُتبے نصیب ہوئے، یہ سب سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بدولت ہی نصیب ہوئے ہیں۔   

(2):حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ فَنَافِی الرَّسُول ہیں

دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ فَنَا فِی الرَّسُول کے بلند درجے پر فائِز تھے کہ بظاہِر مُلْکِ شام کو دار الحکومت حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے بنایا، ظاہِر میں بادشاہ بھی امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ ہی تھے، تخت  پر آپ ہی بیٹھا کرتے تھے مگر اللہ پاک فرماتا ہے: وَ مُلْکُہٗ بِالشَّام مطلب یہ کہ یہ بادشاہت، یہ سلطنت جس کے امیر ظاہِر میں امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ ہیں، یہ بادشاہت اَصْل میں امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی نہیں بلکہ یہ بادشاہت مصطفےٰ جانِ رحمت، شمعِ  بزمِ ہدایت صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے غزوۂ