Book Name:Faizan e Ameer e Muawiya
بدر کے موقع پر غیر مسلموں کی طرف خاک حُضُور صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے پھینکی تھیں مگر اللہ پاک نے فرمایا:
وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ- (پارہ:9،سورۂ انفال:17)
ترجَمہ:اور اے حبیب! جب آپ نے خاک پھینکی تو آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔
سُبْحٰنَ اللہ ! یہ ہے محبت کا بلند درجہ..! سلطنت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ قائِم فرمائیں اور رَبّ فرمائے: یہ سلطنت امیر معاویہ کی نہیں بلکہ ہمارے محبوب صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی ہے۔
(3):ذِکْرِ امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کا قرآن سے ثبوت
تیسری بات جو یہاں سے ہمیں سیکھنے کو ملی وہ یہ کہ اللہ پاک نے تورات شریف میں اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نعت بیان فرمائی، اس میں ذِکْر سلطنتِ امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کا ہوا اور اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرما رہا ہے:
وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲) (پارہ:1،سورۂ بقرۃ:42)
ترجمہ: اورجان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ۔
یعنی ہم نے اپنے محبوب صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی جو نعتیں تورات شریف میں بیان کر دی ہیں، انہیں چھپاؤ مت! ان کا چرچا کیا کرو...!
اب ذرا غور فرمائیے! جب ہم تورات میں لکھی ہوئی نعتِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا چرچا کریں گے، ہم جھوم جھوم کر کہیں گے: وَ مُلْکُہٗ بِالشَّام یعنی ہمارے آقا کامقامِ سلطنت ملکِ شام تھا تو ذرا بتائیے! یہ چرچا کس کا ہورہا ہے؟ یہ کس کی بادشاہت کا بیان ہو رہا ہے؟ یہ کس کی سلطنت کا بیان ہو رہا ہے؟ ہاں! ہاں! یہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی سلطنت کا