Book Name:Faizan e Ameer e Muawiya
نعتِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم مت چھپاؤ...!
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کے نبی حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کی اَوْلاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے، پارہ:1، سُوْرَۂِ بَقَرَہ، آیت: 42 میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو فرمایا:
وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲) (پارہ:1،سورۂ بَقَرہ:42)
ترجَمۂ کنزُ الایمان:اور حق سے باطِل کو نہ ملاؤ اور دیدہ ودانستہ (یعنی جان بوجھ کر) حق نہ چھپاؤ ۔
اس آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل کو دو باتوں سے منع کیا گیا ہے: ❶:حق کو باطِل سے ملانا نہیں ہےاور ❷:حق کو چھپانا نہیں ہے۔
آیتِ کریمہ میں دو مرتبہ لفظِ حق استعمال ہوا ہے، اس جگہ حق سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مُفَسِّرِینِ کرام فرماتے ہیں: نَعْتُ مُحَمَّدٍ فِی التَّوْراۃِ یعنی اس جگہ حق سے مراد حُضُور جانِ کائنات، فخرِ موجودات صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی وہ نعتِ پاک ہے، جو اللہ پاک نے تورات شریف میں نازِل فرمائی۔([1]) لہٰذا بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ اے تورات پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرنے والو! ہم نے تورات شریف میں اپنے محبوب صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے اَوْصاف و فَضَائِل بیان کئے ہیں، نعتِ مصطفےٰ تورات میں بیان فرمائی ہے، اب تم پر لازم ہے کہ تم ہمارے محبوب کی نعتوں میں نہ تو اپنی طرف سے باطِل کی ملاوٹ کرو، نہ ہمارے محبوب کی نعتیں چھپاؤ! بلکہ جتنا ہو سکے ہمارے محبوب صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی نعتوں کا چرچا کرو...!
سُبْحٰنَ اللہ ! پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے اندازہ لگائیے! کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ