Book Name:Faizan e Ameer e Muawiya
ذِکْر ہو رہا ہے۔ سُبْحٰنَ اللہ !
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایمان کا معیار ہیں
اے عاشقانِ صحابہ و اہل بیت ! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تو وہ ہیں کہ اللہ پاک نے انہیں معیارِ ایمان قراردیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:
فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْاۚ- (پارہ:1،سورۂ بقرہ:137)
ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر وہ بھی یوں ہی ایمان لائے، جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پا گئے
تفسیر نعیمی میں اس آیت کے تحت ہے: یعنی اے صحابہ! قیامت تک جو شخص تمہاری طرح کا ایمان لائے، یعنی مجھے (اللہ پاک کو)، میرے رسولوں کو، میری کتابوں کو اس طرح مانے جیسا تم نے مانا، تب وہ ہدایت پر ہے اور اگر سب کچھ مانے مگر تمہاری طرح نہ مانے تو گمراہ کا گمراہ ہے، اے صحابہ! تم تمام جنّوں اور انسانوں کے ایمان کی کسوٹی ہو۔([1])
اللہُ اَکْبَر ! غور فرمائیے! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جو ہمارے ایمان کی کسوٹی ہیں، جنہیں دیکھ کر، جن کی سیرتیں پڑھ کر، جن کے اَحْوال و انداز جان کر ہم نے اپنا ایمان مضبوط کرنا ہے، کیا انہی کا ذِکْرِ خیر نہیں کیا جائے گا؟ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
اللہ پاک ہم سب کو بےعقلی سے محفوظ فرمائے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے بعد اَفْضَل ترین مخلوق ہیں،ان کے چرچے بھی کئے جائیں گے، ان کا ذِکْرِ خیر بھی ہو گا، ان کے نام کی مسجدیں بھی بنائی جائیں گی، ان کے اَیّام بھی منائے جائیں