Qaroon Ko Naseehat

Book Name:Qaroon Ko Naseehat

نیک کاموں پر مال خرچ کر کے، غریبوں، مسکینوں کی دِل جُوئی کر کے، بُھوکوں کی بُھوک مٹا کر اُن پر احسان کیا کر...!!

ہم مال کے مالِک نہیں، وکیل ہیں

پیارے اسلامی بھائیو! یہ بھی بڑی اَہَم نصیحت ہے۔ اللہ پاک نے ہمیں مال عطا فرمایا، اب ہمیں چاہئے کہ ہم راہِ خُدا میں خرچ کر کے اس مال کا حق ادا کیا کریں۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے کہ ہم مال کے مالِک نہیں بلکہ وکیل ہیں۔ سرکار غوث اعظم رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہفرماتے ہیں: اَنْتُمْ وُکَلَاءُ عَلٰی ہٰذِہِ الْاَمْوَال تم اس مال کے وکیل ہو۔([1])

سُبْحٰنَ اللہ!معلوم ہوا؛ یہ مال ہمارا نہیں، اللہ پاک کا ہے، ہم تو بَس وکیل ہیں، یعنی ہمیں یہ مال دِیا گیا ہے اور ہم اس مال کو صِرْف وہیں خرچ کر سکتے ہیں، جہاں اللہ پاک حکم فرمائے گا *حکم مِلا: زکوٰۃ ادا کرو! ہم زکوٰۃ ادا کر دیں گے* حکم مِلا: فطرہ ادا کرو! ہم فطرہ ادا کر دیں گے* حکم مِلا: غریبوں پر خرچ کرو! ہم غریبوں پر خرچ کر دیں گے* حکم مِلا: اپنے اَہْل و عیال پر خرچ کرو! ہم اپنے اَہْل و عیال پر خرچ کریں گے۔ غرض کہ مال اللہ پاک کا ہے، وہ جہاں حکم فرمائے، ہم وہیں خرچ کریں گے۔ اس لئے اللہ پاک نے یہ مال ہمیں عطا فرما کر ہم پر احسان فرمایا، لہٰذا ہم پر بھی لازِم ہے کہ ہم اللہ پاک کے بندوں پر احسان کریں، ان کی کفالت کیا کریں۔


 

 



[1]...جَلَاء الخَاطِرْ، صفحہ:111۔