Qaroon Ko Naseehat

Book Name:Qaroon Ko Naseehat

یہ بھی بہت خوبصُورت نصیحت ہے، اللہ پاک نے جو کچھ عطا کیا ہے* مال ہے *دولت ہے* اچھی آواز ہے* اچھی صحت ہے* جوانی ہے* سانسیں ہیں* جو کچھ بھی رَبّ کا دِیا ہے، اس سے دُنیا نہیں آخرت طلب کیجئے!

آخرت کے چاہنے والے بنو...!!

مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ عنہنے فرمایا:لوگو! آخرت آ رہی ہے، دُنیا جا رہی ہے۔اِن میں سے ہر ایک کے چاہنے والے ہیں۔ تم آخرت کے چاہنے والے بنو! دُنیا کے چاہنے والے مت بننا...!!([1])

اس لئے آخرت کے طلب گار بنیں، دُنیا جا رہی ہے...!! اگر *ہم اپنی جوانی دُنیا پر خرچ کریں تو دُنیا بھی ختم، جوانی بھی ختم *ہم اپنی طاقت دُنیا پر خرچ کریں، دُنیا بھی ختم، طاقت بھی ختم *ہم اپنا مال دُنیا بنانے میں خرچ کر دیں تو دُنیا بھی ختم، مال بھی ختم...!! اور اگر ہم *اپنی جوانی*اپنی طاقت*اپنی ذہانت*اپنی سوچ*اپنی صلاحیتیں*اپنا مال دُنیا کے لئے نہیں بلکہ آخرت کے لئے خرچ کریں تو یہ *جوانی*طاقت*مال و دولت وغیرہ اگرچہ ختم ہوجائیں گی مگر آخرت باقی رہے گی۔ اس لئے عقل مند وہ ہے جو دُنیا کا نہیں بلکہ آخرت کا طلب گار بنتا ہے۔

انسان کو وہی کچھ ملے گا جو آگے بھیجا ہو گا

ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیز  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کے ساتھ کسی سَفَر کے لئے روانہ ہوئے۔ (پہلے دَور میں اُونٹ اور گھوڑوں وغیرہ پر سَفَر ہوتا تھا اور


 

 



[1]... بخاری،کتاب الرقاق،باب فی  الامل و طولہ ،صفحہ: 1581 ۔