Book Name:Qaroon Ko Naseehat
لیا، ان پیاری پیاری نصیحتوں کو ایک کان سے سُنا اور دُوسرے سے نکال دیا۔ پِھر نتیجہ کیا ہوا؟ یہ بدبخت اپنی سرکشی میں بڑھتا گیا، بڑھتا گیا، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الْسَّلام کی گستاخی کر کے زمین میں دھنسا دیا گیا اور رہتی دُنیا تک کے لئے نشانِ عبرت بن گیا۔
پیارے اسلامی بھائیو!ان 5نصیحتوں میں ہم سب کے لئے اور بالخصوص مالداروں کے لئے بہت کچھ سبق ہے۔ ان پانچ نصیحتوں کی کچھ وضاحت سنتے ہیں:
(1):قارُون کو پہلی نصیحت
نیک مسلمانوں نے نصیحت کرتے ہوئے قارُون سے کہا:
لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ(۷۶) (پارہ:20، اَلْقَصَص:76)
تَرجَمہ کَنْزُ الْعِرْفان: اِترا ؤنہیں ، بیشک الله اِترانے والوں کو پسندنہیں کرتا۔
یعنی اے قارُون...!! اللہ پاک نے تمہیں مال دیا ہے تو اس مال پر فخر و تکبّر کرنے، شیخی مارنے سے باز رہ، بےشک اللہ پاک تکبّر میں آ کر شیخی مارنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اس مقام پر ایک بات ذِہن میں بٹھا لیجئے! کوئی نعمت ملنے پر ہمیں جو خوشی ہوتی ہے، وہ خوشی دو طرح کی ہے (1):ایک ہے شیخی کی خوشی یعنی اِترانا، یہ حرام ہے۔ (2):اور دوسری ہوتی ہے شکرانے کی خوشی ( مثلاً نعمت ملی*دِل پسیج گیا*دِل میں شکر کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں*رہ رہ کر خیال آ رہا ہے: آہ! میں تو نکما ہوں*میرے رَبّ نے مجھ پر کیسا کرم