Book Name:Qaroon Ko Naseehat
ہمارے پاس ہے مگر ہم اس دُنیا سے ساتھ کیا لے کر جائیں گے؟صِرْف کفن کی 2چادریں اور بَس...!!صِرْف یہی ہمارا حِصَّہ ہے، اس کے مُتَعَلِّق فرمایا گیا کہ دُنیا سے اپنا حِصَّہ مت بھولو! یعنی کفن کو یاد رکھو!
پیارے اسلامی بھائیو! یہ حقیقت ہے ہم اس دُنیا میں جو کچھ بھی کر لیں، جتنا بھی کما لیں، جتنا بھی جمع کر لیں، آخر ہمارے پاس کیا بچے گا؟ کیا ساتھ لے کر دُنیا سے جائیں گے؟ ایک کفن...!!
*خلیفہ عبد الملک بن مروان بڑے کرّ و فرّ کا(یعنی شان و شوکت والا) بادشاہ تھا، جب اس کا آخری وقت آیا تو کسی نے پوچھا: اس وقت آپ خُود کو کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ عبد الملک بن مروان بولا: بالکل ویسا ہی محسوس کر رہا ہوں، جیسا قرآنِ کریم نے فرمایا کہ
وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْۚ- (پارہ:7، اَلْاَنْعام:94)
تَرجَمہ کَنْزُ الْعِرْفان:اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور تم اپنے پیچھے وہ سب مال و متاع چھوڑ آئے جو ہم نے تمہیں دیا تھا
یہ آیت پڑھتے ہی اس کا دَم نکل گیا۔ *خلیفہ ہارُونُ الرَّشید بھی بہت رُعب و دبدبے والا بادشاہ تھا، جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنا کفن منگوایا اور اسے اُلٹ پلٹ کر کے بار بار دیکھنے لگا، پِھر یہ آیت پڑھی:
مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ(۲۸) هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ(۲۹) (پارہ:29، اَلْحَاقَّۃ:28، 29)
تَرجَمہ کَنْزُ الْعِرْفان:میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔میرا سب زور جاتا رہا۔