Qaroon Ko Naseehat

Book Name:Qaroon Ko Naseehat

عُلَمائے کرام فرماتے ہیں:قارُون حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام سے حسد کیا کرتا تھا، چنانچہ اس بدبخت نے چند لوگوں کے ساتھ اپنی ایک الگ جماعت بنا لی، اس نے ایک عالیشان گھر بنایا، اس پر سونے کا دروازہ لگایا، دِیواروں پر بھی سونے کا کام کروایا۔ بنی اسرائیل کے لوگ صبح و شام اس کے پاس آتے، کھانے کھاتے، گپیں لگاتے اور قارُون کو ہنسایا کرتے تھے۔ قارُون کی ان سب خَباثتوں کے باوُجُود حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام اس کے ساتھ حُسْنِ اخلاق سے پیش آتے رہے مگر  یہ ہر وقت آپ کو تکلیف دیتا، اس کی سرکشی اور تکبّر دِن بہ دِن بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ آخِر جب زکوٰۃ کا حکم نازِل ہوا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام نے قارُون کو بھی زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تو مال کے لالچ میں آ کر اس بدبخت نے بے حیائی کی انتہا ہی کر ڈالی۔ اس نے ایک عورت کو رقم کی لالچ دِی اور اس بات پر راضِی کر لیا کہ وہ اللہ پاک کے نبی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام پر بدکاری کا الزام لگا دے۔ وہ عورت مال کے لالچ میں آ کر اس بڑے گُنَاہ کیلئے راضی ہو گئی لیکن بنی اسرائیل کے مجمع میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کے سامنے ایسا گندا الزام حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام پر لگانے کی اُسے جرات نہ ہوئی اور اُس نے خوفِ خُدا کے سبب سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔

قارُون کی اتنی گھٹیا شرارت دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الْسَّلام کو بہت ہی دُکھ ہوا، آپ عَلَیْہِ الْسَّلام نے سر سجدے میں رکھا اور عرض کیا: اے اللہ پاک! اگر میں تیرا سچّا رسول ہوں تو قارُون پر غضب نازِل فرما دے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الْسَّلام کی یہ دُعا قبول ہوئی اور حکم ہوا: اے موسیٰ عَلَیْہِ الْسَّلام! زمین کو آپ کی بات ماننے کا حکم دے دیا گیا ہے، آپ اسے جو چاہیں حکم دیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الْسَّلام نے زمین کو حکم دیا تو زمین نے قارُون،