Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy

Book Name:Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy

کس چیز پر قابُو رکھ سکوں گا؟ سردارِ انبیا، محبوبِ خُدا  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: کیا تم اپنے ہاتھوں پر قابُو رکھ سکتے ہو؟  میں نے پھر عرض کیا: یارسولَ اللہ  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! اگر میں اپنے ہاتھ بھی قابُو میں نہ رکھ پاؤں تو کس چیز پر قابُو رکھ سکوں گا۔ اب آقائے نامدار، مکی مدنی تاجدا ر  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا:   بس پھر اپنی زبان سے ہمیشہ اچھی بات ہی کہو اور تمہارے ہاتھ بھلائی کے عِلاوہ کسی طرف نہ اُٹھیں۔  ([1])

حضرت انس بن مالک   رَضِیَ اللہُ عَنْہ   فرماتے ہیں: سرور عالم، نورِ  مُجَسَّم  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: بندے کا ایمان درست نہیں ہوتا، جب تک کہ اُس کا دِل درست نہ ہو اور بندے کا دِل درست نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کی زبان درست نہ ہو جائے۔  ([2])

زبان زہریلے سانپ کی طرح ہے

کُل تقریباً  18ہزار عالَم (یعنی جہان) ہیں، خواب بھی ایک جہان ہے، جسے عالَمِ رُؤیَا کہا جاتا ہے۔ عالَمِ رؤیا (یعنی خواب) میں ہماری زبان سے نکلنے والے الفاظ کو سانپ کی صُورت میں دکھایا جاتا ہے۔ عِلْمِ تعبیر کے بہت بڑے امام ہیں: امام اِبْنِ سیرین  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  ۔ آپ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ اس کے منہ سے سانپ نکلا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس بندے کی زبان سے ایسا لفظ نکلے گا، جو اس کے لئے وبالِ جان بَن جائے گا۔ ([3])

اللہ! اللہ! اے عاشقانِ رسول! اندازہ کیجئے! سانپ زہریلا جانور ہے، اسی طرح


 

 



[1]...معجم كبير ،جلد:1، صفحہ:218،حديث:816۔

[2]...مسند امام احمد،مسند انس بن مالك،جلد:  5، صفحہ:432 ،حديث:12897۔

[3]...تعبیر الرؤیا (مترجم)، صفحہ:414۔