Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy

Book Name:Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy

روتے ہو؟ پتھر نے عرض کیا: ذٰلِکَ کَانَ بُکَاءَ الْخَوْفِ وَ ہٰذَا بُکَاءُ الشُّکْرِ یعنی پہلے خوفِ خُدا کے سبب آنسو بہہ رہے تھے، اب شکرانے کے آنسو بہا رہا ہوں۔   ([1])

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہمیں بھی رمضان کریم نصیب ہوا، اگرچہ ہم میں سے کوئی بھی حتمی اور یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ میری مغفرت ہو گئی ہے، البتہ ہمیں مغفرت کا بہت بڑا ذریعہ نصیب ہوا*ماہِ رمضان کی ہر ہر گھڑی برکت والی ہے*رمضان المبارک میں روزانہ افطار کے وقت 10 لاکھ ایسے گنہگاروں کی بخشش ہوتی ہے، جن پر جہنّم واجب ہو چکا ہوتا ہے* اور جمعہ کے دِن تو ہر ہر گھڑی میں 10، 10 لاکھ افراد کو بخش دیا جاتا ہے۔ کاش! ہمارا بھی ان بخشے ہوؤں میں شُمار ہو جائے ۔

خیر! اللہ پاک نے ہمیں بخشش و مغفرت کا ایسا ذریعہ عطا فرمایا، ہم پر لازم ہے کہ زبان سے بھی اس کا شکر ادا کریں اور ساتھ ہی ساتھ عملی طور پر بھی  شکر کی ادائیگی کے لئے گُنَاہوں سے بچیں، ماہِ رمضان اب چند دن کا مہمان ہے، جلد ہی رخصت ہو جائے گا، اَصْل شکرِ رمضان یہ ہے کہ ہم ماہِ رمضان کے بعد بھی ذوقِ رمضان برقرار رکھیں اور گُنَاہوں سے بچ کر نیکیوں بھری زندگی گزاریں۔اللہ پاک  ہمیں توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖنَ  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  ۔ 

شُکر کسے کہتے ہیں

امامُ الطَّائِفہ (یعنی اولیا کے امام) حضرت جنید بغدادی  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  کی عمر مبارک 7 سال تھی، آپ حضرت سِرِّی سقطی  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  کی خِدْمت میں رہا کرتے تھے، ایک روز حضرت سِرِّی


 

 



[1]...رسالہ قشیریہ ،کتاب الشکر ، صفحہ:213۔