Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy

Book Name:Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy

ہماری زبان بھی خطرناک ترین عُضْو ہے، زبان کو 32 دانتوں کے پہرے میں رکھا گیا ہے، اس کے باوُجُود یہ قابو میں نہیں آتی، جب یہ زہر اگلتی ہے تو صِرْف جان ہی کو نہیں بلکہ بعض دفعہ ایمان کو بھی سخت نقصان پہنچا دیتی ہے۔

ایک غَلَط لَفْظ کا نقصان

ہمارے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: آدمی (نیکیاں کرتے ہوئے) جنّت کے قریب ہوتا جاتا ہے، ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اُس کے اور جنّت کے درمیان  ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر وہ بندہ اپنی زبان سے ایک ایسا لفظ نکالتا ہے، جس کے سبب اسے جنّت سے دُور کر دیا جاتا ہے۔ ([1])

پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! زبان کیسی خطرناک چیزہے۔ اللہ پاک ہمیں زبان کی حفاظت نصیب فرمائے۔ نفسِ اَمَّارہ کی اِصْلاح کے لئے پہلا ہتھیار جو ضروری ہے: خنجرِ خاموشی۔ خاموشی اختیار کریں، زبان کا درست استعمال کریں، بولنے سے پہلے تولنے کی عادَت بنائیں، اِنْ شَآءَ اللّٰهُ الْکَرِیْم!نفسِ اَمَّارہ کی اِصْلاح ہو گی اور ذوقِ رمضان برقرار رہے گا۔  

بھوک کے فضائل

پیارے اسلامی بھائیو! نفسِ اَمَّارہ کی اِصْلاح کے لئے دوسرا ہتھیار ہے: شمشیرِ جُو (یعنی بھوک کی تلوار)۔ امام غزالی  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں: اَلْجُوْعُ رَاْسُ مَالِنَا یعنی بھوک ہمارا سرمایہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اولیائے کرام کو جو وُسعت، سلامتی، عبادت میں لذت اور عِلْمِ نافِع حاصِل


 

 



[1]...مسند امام احمد،مسند الانصار،جلد:9 ،صفحہ: 469 ،حديث:23843۔