Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy

Book Name:Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy

قرآن میں مَصْرُوف ہوئے*سحر و افطار کی رونقیں لگنے لگیں*دیکھتے ہی دیکھتے عشرۂ رحمت اپنی برکتیں لُٹاتا ہوا تشریف لے گیا* پھر عشرۂ مغفرت شروع ہوا*خوش نصیبوں کو رَبِّ رحمٰن و رحیم کی بارگاہ سے بخشش کی خیرات ملی*رمضان المبارک کے قدر دانوں نے عشرۂ مغفرت کی برکات حاصِل کیں* پھر جلد ہی عشرۂ مغفرت بھی رُخصت ہوا* اس کے ساتھ ہی جہنّم سے آزادی کا عشرہ آ گیا* اعتکاف کرنے والے جُوْق دَرْ جُوْق مسجدوں کی طرف بڑھ گئے* اعتکاف کی رونقیں لگ گئیں* آہ! اب ماہِ رمضان کا یہ آخری عشرہ بھی اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، آہ! صد آہ! عنقریب ماہِ رمضان ہم سے رُخصت ہو جائے گا۔

جمعۃ الوداع کے بیان میں جان دیدی

ایک بزرگ  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں:میں ماہِ رَمَضان کے جُمُعَۃُ الوَداع کے روز حضرتِ منصور بن عَمَّار  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  کی محفل میں حاضر ہوا۔آپ رَمضان شریف کے روزوں کی فضیلت، راتوں کی عبادت اور خلوص کے ساتھ عبادت کرنے والوں کے لئے جو اَجْر تیار کیا گیا ہے اُس کے متعلق بیان فرما رہے تھے، یوں لگ رہا تھا گویا آپ کے بیان کے اثر سے ٹھوس پتھروں سے آگ ظاہر ہو رہی ہے لیکن آپ  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  کی محفل میں نہ کسی نے حرکت کی ، نہ ہی کسی نے اپنے گناہوں پر نَدامت کا اظہار کیا، جب آپ  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  نے محفل کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: اے لوگو! کیا اپنے عیبوں سے آگاہ ہو کر کوئی رونے والا نہیں ؟ *کیا یہ توبہ و استغفار کا مہینا نہیں ؟* کیا یہ عَفْو و مَغْفِرت (یعنی معافی ملنے اور بخشے جانے) کا مہینا نہیں ؟* کیا اس ماہِ مبارَک میں جنّت کے دروازے نہیں