Book Name:Zoq e Ramzan Barqarar Rakhy
ہوتا ہے، یہ سب اللہ پاک کی رضا کے لئے بھوک برداشت کرنے کے سبب ہی حاصِل ہوتا ہے، ([1])بھوک اللہ پاک کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، جو اللہ پاک صرف اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔ ([2])
اے عاشقانِ رسول! جیسے ہم ماہِ رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر دِن بھر بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں، ذوقِ رمضان برقرار رکھنے کے لئے ماہِ رمضان کے بعد بھی بھوک پیاس برداشت کریں، اِنْ شَآءَ اللّٰهُ الْکَرِیْم!نفسِ اَمَّارہ کا زور ٹوٹے گا اور تقویٰ نصیب ہو گا۔
بھوک کی برکتیں حاصِل کرنے کا بہترین انداز روزہ ہے۔ کوشش کر کے ماہِ رمضان کے بعد بھی نفل روزوں کا سلسلہ رکھا جائے تو اِنْ شَآءَ اللّٰهُ الْکَرِیْم! پُورا سال ذوقِ رمضان برقرار رہے گا۔
(1):جس نے رِضائے الہٰی کے لئے ایک دن کا نفل روزہ رکھا تو اللہ پاک اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک تیز رفتار سوار کی 50سالہ مُسافَت (یعنی فاصلے)تک دور فرما دے گا۔([3]) (2):حضرتِ ابو اُمامہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں:میں نے عرض کیا:یا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلیہ واٰلہٖ و سَلَّم !مجھے ایسا عمل بتایئے جس کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤں ۔فرمایا : روزے کو خود پر لازم کر لو کیونکہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں ۔راوی کہتے ہیں: حضرتِ ابو