بوریت

کتابِ زندگی

بوریت (Boredom)

*   ابو رجب عطّاری مدنی

ماہنامہ ربیع الاول1442ھ

امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ   کے مایہ ناز شاگرد   امام محمد شیبانی  رحمۃ اللہ علیہ  کے پاس رات کے وقت مختلف قسم کی کتابيں رکھی ہوتی تھيں جب ايک فن (کو مسلسل پڑھنے )سے اُکتا جاتے تو دوسرے فن کے مطالعے ميں لگ جاتے تھے۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم ، ص101)

ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے قارئین !بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا کسی کام میں جی نہیں لگتا لیکن پھر بھی کرنا پڑتا ہے ، کسی کا طویل انتظار کرنا پڑے ، رات کو نیند نہ آئے ، بجلی چلی جائے اور کچھ کرنے کو نہ ہو ، سبق میں دل چسپی نہ ہو پھر بھی پڑھنا پڑے یا کسی کی خشک باتیں توجہ سے سننی پڑیں تو ہمارے دل پر بیزاریت اور اُکتاہٹ کی کیفیت طاری ہوتی ہے جسے بوریت (Boredom)کا نام دیا جاتا ہے ۔

بوریت کا سب سے آسان حل(Solution) یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کسی دل چسپ کام میں مصروف ہوجائے ، چنانچہ بچے جب بور ہوتے ہیں تو اپنے کھلونوں سے کھیلنے لگتے ہیں ، نوجوان یاردوستوں کے ساتھ گُھومنے نکل جاتے ہیں ، بڑی عمر کے لوگ گلی محلے میں اپنی چوپال جمالیتے ہیں ، کوئی کتابیں پڑھ کر بوریت مٹاتا ہے تو کوئی ناول یا ڈائجسٹ اٹھا لیتا ہے ، فلمیں ڈرامے دیکھنے والے ، گانے باجے سننے والے ، چغلیوں اور غیبتوں سے محفل کو گرمانے والے ، پتنگ بازی کرنے والے اور سوشل میڈیا پر بے مقصد مصروف ہونے والے ايك اعتبار سے اپنی بوریت سے نجات پانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں کیونکہ اگر ان کی یہ مصروفیات (Activities) ان سے چھین لی جائیں تو یہ بور ہونا شروع ہوجائیں گے ۔

قابلِ غور پہلو : بوریت مٹانے کے لئے اپنی دل چسپی کی مصروفیت اپنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن چند باتیں پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہیں : (1) وہ مصروفیت فرائض وواجبات کی ادائیگی میں رُکاوٹ نہ بنے ، سیروتفریح ہو یا کچھ اور! اس کی وجہ سے فرض نمازچھوڑنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے ، اسی طرح ہر مسلمان پر اپنی ضرورت کے مسائل سیکھنا فرض ہے جیسے عقائد ، نماز ، روزہ وغیرہ کے شرعی مسائل ، تو اگر وہ محض دنیاوی معلومات یا حکایات پر مشتمل کتابیں ہی پڑھتا رہے گا تو فرض علم سیکھنے سے محروم رہ جائے گا (2)وقت جیسی انمول نعمت ضائع نہ ہو کیونکہ یہ دولت ہمیں بے کار کاموں میں لُٹانے کے لئے نہیں ملی بلکہ ہمیں اس کا استعمال اپنی دنیا وآخرت بہتر بنانے کے لئے کرنا چاہئے ۔ کوئی طالبِ علم دین اپنا وقت پڑھائی کرنے کے بجائے گھومنے پھرنے میں ضائع کرے تو اس کا اچھا اور ماہر عالِم بننا بہت دُشوار ہوتا ہے (3)وہ مصروفیت کسی گناہ پر مشتمل نہ ہوجس سے ہماری آخرت کو نقصان پہنچتا ہو مثلاً اگر کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھتا ہے تو یہ گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں ، اسی طرح کوئی ایسی محفل میں بیٹھتا ہے جہاں کسی کی غیبتیں ، چغلیاں کی جارہی ہوں ، اس پر تہمتیں باندھی جارہی ہوں یا اس کے پوشیدہ عیب کھولے جارہے ہوں تو بولنے والوں کے ساتھ ساتھ شوق سے سننے والا بھی گناہ گار ہوگا (4)کسی کی حق تلفی نہ ہوتی ہومثلاً طلبہ کو پڑھانے والا اگر موبائل وغیرہ پر مصروف رہے گا تو طلبہ کی تعلیم کاحرج ہوگا اور(عرف سےہٹ کراس طرح کرنےوالے) استاذ کے لئے اتنے وقت کی اُجرت(Salary) لینا بھی جائز نہیں ہوگا ، اسی طرح کسی دفتر میں کام کرنے والا بوریت کی وجہ سے آفس ورک چھوڑ کر کسی ذاتی کام (مثلاًگھر پر لمبی لمبی کالیں کرنے ، سوشل میڈیا یا اخبار پڑھنے) میں مصروف ہوجائے گا تو اتنے وقت کی اُجرت کا حقدار نہیں ہوگا۔ (اس حوالے سے امیرِاہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا رسالہ ’’حلال روزی کمانے کے 50 طریقے ‘‘ پڑھنا بہت مفید ہے )

اللہ پاک ہمیں کرنے کے کاموں میں مصروف رہنے اور نہ کرنے کے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   مُدَرِّس مرکزی جامعۃالمدینہ ،  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 


Share