Book Name:Hum Q Nahi Badaltay
کرتے۔ ہم زلزلے کے جھٹکے محسوس کرنے پر گھرسے کسی کُھلی جگہ کی طرف توبھاگتے ہیں، مگرکیاکبھی ہم نے غورکیاکہ زلزلے کے خوف سے سچی توبہ کرتے ہوئے ہمارے قدم نمازکے لیے مسجد کی طرف بڑھے؟کیا ہماری تلاوتِ قرآن میں اِضافہ ہوا؟کیا ہم نے گناہوں سے سچی توبہ کی؟اے کاش!ہم جیتے جی حقیقی معنوں میں موت کی تیاری کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔آمین
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
قبرستان کی حاضری کی سنتیں اور آداب
پیارے اسلامی بھائیو!آئیے!شیخ طریقت،امیرِ اَہلسُنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے رسالے 163مدنی پھول صفحہ نمبر36سے قبرستان کی حاضری کی سنتیں اور آداب سنتے ہیں۔پہلے ایک فرمان مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنیئے ،فرمایا:میں نے تم کو زیارتِ قُبُور سے منع کیا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو کہ وہ دُنیا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخِرت کی یاد دلاتی ہے۔( اِبن ماجہ،۲/۲۵۲، حدیث۱۵۷۱)*(وَلِیُّ اللہ کے مزار شریف یا) کسی بھی مسلمان کی قَبْر کی زیارت کو جانا چاہے تو مُستَحَب یہ ہے کہ پہلے اپنے مکان پر (غیر مکروہ وقت میں)دو(2)رَکْعَت نَفْل پڑھے،ہر رَکْعَت میں سُوْرَۃُ الْفاتِحَہ کے بعد ایک (1)بار اٰیۃُ الْکُرسِیْ،اور تین(3)بار سُوْرَۃُ الْاِخْلاص پڑھے اور اس نَماز کا ثواب صاحبِ قَبْرکو پہنچائے،اللہ پاک اُس فوت شدہ بندے کی قَبْر میں نور پیدا کریگا اور اِس (ثوا ب پہنچانے والے) شخص کو بَہُت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔(فتاوی ہندیہ، ۵/۳۵۰) * مزارشریف یا قَبْر کی زیارت کے لئے جاتے ہوئے راستے میں فُضُول باتوں میں مشغول