Hum Q Nahi Badaltay

Book Name:Hum Q Nahi Badaltay

اور سالانہ حساب کتاب کرتا ہے،پھر اُس پرمختلف پہلوؤں سے غور و فِکْر کرتا ہے، جہاں کسی قسم کی کمی نظر آتی ہے  اُسےدُرست کرتا ہے اور جو چیز فائدے کے حُصُول میں رُکاوٹ نظرآتی ہے اس کودُورکرتاہے۔اگروہ اپنے کاروباری مُعاملات کا مُحاسَبہ نہ کرے تو اُسےفائدہ حاصل ہونا تو دُور کی بات ہے اُلٹا نقصان کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔اگر اِس نقصان کے بعدبھی وہ غفلت کی گہری نیندسے بیدار نہ ہوتو ایک دن ایسا آتا ہےکہ اُس کااصل سرمایہ بھی باقی نہیں رہتا اور وہ کوڑی کوڑی کا محتاج ہوکر رہ جاتا ہے۔بالکل اِسی طرح جو شخص” آخرت“میں فائدہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہو،اُسے بھی چاہئے کہ اپنے کئے گئے اَعمال پرغور کرے ، جو اَعمال اُس کوفائدہ دلوانےمیں مددگار ثابت ہوں، اُن کو مزید بہتر کرے اور جو کام فائدے کےحُصول میں رُکاوٹ بن رہےہوں، اُنہیں چھوڑ دے،جوشخص اِس طرح اپنا اِحتساب جاری رکھے گا وہ اللہکریم کی توفیق سےکامیاب ہو گا اور بدلے میں اُسے جنت  میں داخلہ نصیب ہوگا۔امیرُ المؤمنین حضرت فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہُ بھی روزانہ اپنا مُحاسَبہ کیا کرتے تھے ،چنانچہ

حضرت فاروقِ اعظم  کا محاسبۂ نفس

                             امیرُ المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ (اپنا مُحاسَبَہ کرتے ہوئے) رات کے وقْت اپنے پاؤں پردُرَّہ (کَوڑا)مار کر فرماتے: بتا! آج تُو نے’’کیا عمل‘‘ کیا؟ (احیاء العلوم،۵/۳۵۸ملخصاً)

نیک عمل نمبر 07 کی ترغیب