Hum Q Nahi Badaltay

Book Name:Hum Q Nahi Badaltay

گناہوں اور زیادتیوں پر شرمندہ ہوکر توبہ کرتا ہوں۔اے میرے خالق! اگر تُومجھے دنیا میں کچھ مُدّت اور باقی رکھنا چاہتا ہے تو مجھے مستقل طور پرفرمانبرداری کی راہ پر چلا دے۔ اگر مجھے موت دے کر اپنی طر ف بُلانا چاہتا ہے تو مجھ پر کرم کر دے اور اپنے کرم سے میرے گناہوں کو بخش دے۔بادشاہ اِسی طرح مصروفِ التجا رہا اور اُس کا درد بڑھتا گیا،پھر اُس نے اِن کلمات کی تکرار شروع کردی:اللہ پاک کی قسم! موت، اللہ  پاک کی قسم !موت۔ بس یہی کلمات اُس کی زبان پر جاری تھےکہ اُس کی  رُوح پرواز کر گئی۔ (موسوعۃابن ابی الدنیا، قصرالامل، ۳/۳۶۱، رقم :۲۷۱،عیون الحکایات، الحکایۃ الثالثۃوالسبعون …الخ،ص ۴۰۴ ملخصاً)

پہلاسبب لمبی اُمیدیں

پیارےاسلامی بھائیو!ہماری اصلاح میں سب سےپہلی اور بڑی رکاوٹ لمبی اُمیدیں ہیں،کیونکہ*لمبی اُمیدیں انسان کو گناہوں کےگہرے گڑھے میں دھکیل  دیتی ہیں۔* خواہشات کادروازہ کھولتی ہیں۔*انسا ن  کو دُنیا و آخرت میں کئی طرح  کی مصیبتوں میں مُبْتَلاکردیتی ہیں۔* انسان  کودنیاوی  لذّتوں میں پھنسادیتی ہیں۔ *انسان کوقبر کی ہولناکیوں سے غافل  کردیتی ہیں ۔*گناہوں  پر بہادرکر دیتی ہیں۔ * اپنی اِصلاح میں رُکاوٹ بنتی ہیں۔* موت کی تیاری سے بے پروا کردیتی ہیں۔ *طرح طرح کےگناہوں میں مُبْتَلا کروادیتی ہیں۔جیساکہ بیان کردہ واقعے  میں بادشاہ لمبی اُمیدوں اور دیر تک زندہ رہنےکی آفت میں مُبْتَلا ہوکر عالیشان محلات کی تعمیرات اورکھیل کُود کے آلات میں مشغول ہوا،دوستوں  کی بے فائدہ صحبت اور خادِموں کی خُوشامدانہ خدمت کے نشےمیں  قبرکے اکیلے پن کوبُھول گیا،لیکن جیسےہی