Book Name:Hum Q Nahi Badaltay
میں خوب نیکیاں کرلینا، یہ جملے ہمیں اپنے آپ کو بدلنےاور اپنی اِصلاح کرنے نہیں دیتے،حالانکہ اگر ہم غور کریں تو ہمیں ایسے کئی نوجوان نظر آئیں گے ،جن کی جوانیاں بھی اِسی طرح کے خیالات میں گزر رہی تھیں، مگر زندگی نے اُن کے ساتھ وفانہیں کی،وہ اچانک موت کا شکار ہوگئے، موت نے اُنہیں اِس ہنستی بستی دنیا سے اُٹھا کر اندھیری قبر میں پہنچا دیا۔
لمبی اُمیدوں کی وجہ سے نیکیاں کرنادُشوار ہوجاتاہے ،جیسا کہ
حضرت امامِ غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہفرماتےہیں:لمبی اُمیدیںنیکی وعبادت کی راہ میں رُکاوٹ ہیں،ہر فتنے اوربُرائی کا باعث ہیں، لمبی اُمیدوں میں مُبْتَلا ہوجانا، ایک مرض ہے جو لوگوں کو اور بہت سے اَمراض میں مُبْتَلا کرتا ہے۔(منھاج العابدین ،ص۱۱۸،ملخصا)
اےعاشقانِ رسول!لمبی اُمیدیں انسان کوغافل اورسُست بنادیتی ہیں ،جس كی وجہ سےنیکی کرنے سےپہلے ہی دل میں یہ خیال جَم جاتاہےکہ ” تھوڑی دیر بعد کرلوں گا، ابھی کافی وقْت ہے، عبادت کا موقع فوت نہیں ہونےدُوں گا۔“ یُوں سُستی کرکےبندہ نیکی کاموقع ضائع کردیتاہے،لمبی اُمیدیں انسان کو بدعملی کا شکارکردیتی ہیں،جیساکہ
حضرت داؤد طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے فرمایا:جو اللہ پاک کی آخرت میں دی جانے والی سزا سے ڈرتا ہے ، وہ دُورکوبھی نزدیک خیال کرتا ہے اور جولمبی اُمیدوں میں مُبتلا ہو جاتا ہے وہ بداَعْمالی کا شکار ہوجاتا ہے۔(منہاج العابدین ،ص۸۱)لہٰذا ہمیں چاہئے