Hum Q Nahi Badaltay

Book Name:Hum Q Nahi Badaltay

کچھ باتیں سُنیں گے۔اےکاش ! ہمیں سارا بیان اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ سننا نصیب ہوجائے ۔

                             آئیے! سب سے پہلےایک واقعہ سنتے ہیں،چنانچہ 

لمبی اُمیدکے خاتمے کا اِنعام

بصرہ کےایک بادشاہ نے باد شاہت  کو خیر بادکہہ کر زُہدوتقویٰ کی راہ اِختیارکی،لیکن دوبارہ حکومت کی طرف مائل ہوا اور عیش و عشرت میں باقی زندگی گزارنے کا پکا ارادہ کرلیا۔اُس نے ایک شاندار محل بنوایا، جس  میں اَعلیٰ قسم کےقالین بچھوائے،ہر طرح کے ساز و سامان سے اُس عظیم ُالشَّان محل کو آراستہ کرایا اور ایک کمرہ مہمانوں کے لئے خاص کر دیا،وہاں عُمدہ بستر بچھائے اور طرح طرح کے کھانے چُنے جاتے ۔ وہ بادشاہ لوگوں کو بُلاتا ،عظیم ُ الشَّان محل اوربادشاہ کی شان وشوکت  دیکھ کرلوگ  خوب تعریف کرتے۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ بادشاہ دنیا کی رنگینیوں میں گُم ہو چکا تھا،اُس کے عظیمُ الشَّان محل میں ہرطرح کےگانے باجےاور عیش وعشرت کاسامان موجود تھا۔ وہ ہروقْت دُنیوی لذّتوں میں مگن رہتا۔ اِن کاموں نے اُسے لمبی اُمید کےتباہ کُن باطِنی مرض میں مُبْتَلا کردیا ۔ ایک دن اُس نےاپنے خاص وزیروں، مُشیروں اور عزیزوں کو بُلاکر کہا: تم اِس عظیمُ الشَّان محل میں میری خوشیوں کو دیکھ رہے ہو،دیکھو! میں یہاں کتنے سُکون میں ہوں،میں چاہتا ہوں کہ اپنے تمام بیٹوں کیلئے بھی ایسے ہی عظیمُ الشَّان محلّات  بنواؤں!،تم لوگ چند دن میرے پاس رُکو،خوب عیش کرو اور مزید محلّات