Book Name:Hum Q Nahi Badaltay
نے ایک زور دار چیخ ماری اور بے ہو ش ہو کر گِر پڑا،جب ہوش میں آیا تو کہنے لگا:ہائے افسوس!اگر روزانہ ایک گناہ بھی کیا ہوتو اپنےربِّ کریم کی بارگاہ میں اِکیس ہزار پانچ سو (21500)گناہ لے کر حا ضر ہوں گا تو اُن گناہوں کا کیا حال ہوگا جن کا شمار ہی نہیں؟ ہائےافسوس! میں نے اپنی دنیا آباد اور آخرت برباد کی اور اپنے ربِّ کریم کی نافرمانی کرتا رہا،میں دنیا میں تو آبادی سے بربادی کی طرف منتقل ہونا پسند نہیں کرتا تو بروزِقیامت بغیر ثواب وعمل کے حساب و کتاب کیسے دوں گا؟ اورعذاب کا سامنا کیسےکروں گا؟پھر اُس نے ایک زوردار چیخ ماری اورزمین پرگِر گیا، جب اُس کو حرکت دی گئی تو اس کی رُوح پرواز کر چکی تھی۔ (حکایتیں اور نصیحتیں ،ص۵۲)
اےعاشقانِ اولیا!آپ نے سُنا کہ ہمارےبُزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نزدیک غور و فکر کی اِس قدر اَہمیَّت تھی کہ نیک اعمال کرنے کے باجود بھی اپنےنفس کی مخالَفت کرتے،اپنے آپ کو گناہوں سے بچانےکی کوشش کرتے اور بارگاہِ الٰہی میں حاضری کاخوف دلاتےرہتے۔ذراسوچئے!جب یہاللہ والےاس قدر اِستقامت کےساتھ اپنا مُحاسَبہ کرتے اور آخرت کےبارے میں غوروفکرکرتے تھے تو ہم گناہ گاروں کو غوروفکر کرنے،اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی کس قدر زیادہ ضرورت ہونی چاہئے۔ ۔ آئیے!غور و فکر کی عادت بنانے کے لئے ایک اور واقعہ سُنتے ہیں ، چنانچہ
حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہا کامعمول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سےکہتیں:اے رابعہ(ہوسکتا ہے کہ)یہ تیری زندگی کی آخری