Book Name:Mola Ali Aur Fikr e Akhirat
کی محبّت جنّت میں جانے کا سبب بن جاتی ہے لیکن انداز دیکھئے! خوفِ خُدا کا عالَم دیکھئے! آخرت کی فِکْر دیکھئے! رات کی تنہائی میں رَبّ کے حُضُور بیٹھ کر کانپتے ہیں، روتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں، دُنیا کو دُھتکارتے اور آخرت کی فِکْر میں مَصْرُوف رہتے ہیں۔
مگر افسوس! ہمارا حال بےحال ہے*نیکی نام کو نہیں ہے*اعمال نامہ گُنَاہوں سے بھرا پڑا ہے*نہ ظاہِر اچھا ہے*نہ باطن پاک ہے، اس کے باوُجُود کوئی فِکْر نہیں...!! *بس دِن رات دُنیا، دُنیا اور دُنیا کمانے کی فِکْر ہے *مال کی حرص ہے، ہَوَس ہے*کھانا کیا ہے؟*پہننا کیا ہے؟*مستقبل کیسا ہو گا؟*ایک کاروبار تو چَل پڑا ہے، دوسرا کیسے چلے گا؟*ایک جگہ سے اچھی آمدن ہو رہی ہے، آمدن کے مزید ذرائع کیسے کھولے جائیں؟ *کار، کوٹھی، بنگلہ کیسے ملے گا؟ بس یہی دِن رات کی فِکْریں ہیں، نہ توبہ کے آنسو، نہ شَرمندگی، نہ پچھتاوا، نہ ہی کوئی فِکْر ہے، بس دِن رات غفلت میں گزرتے چلے جا رہے ہیں...!!
پیارے اسلامی بھائیو! کاش! ہمیں فِکْرِ آخرت نصیب ہو جائے۔ یقین مانیئے! دُنیا بہت بےوفا ہے۔مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: لوگو! آخرت آ رہی ہے، دُنیا جا رہی ہے۔اِن میں سے ہر ایک کے چاہنے والے ہیں۔ تم آخرت کے چاہنے والے بنو! دُنیا کے چاہنے والے مت بننا...!! بے شک آج عمل کا دِن ہے، آج حِساب نہیں مگر کل حِساب کا دِن ہو گا، وہاں عَمَل نہیں۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ حقیقت ہے، کھلی حقیقت ہے، دُنیا جا رہی ہے اور آخرت آرہی