Book Name:Mola Ali Aur Fikr e Akhirat
معنی ہے : اللہ پاک کا شیر۔
*مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ مہاجرینِ اَوَّلِیْن( یعنی ابتدا ہی میں ہجرت کرنے والے )اور عَشَرَہ مُبَشَّرَہ( یعنی وہ 10خوش نصیب صحابہ جنہیں پیارے آقا ، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے نام لے کر جنّت کی بشارت دی ، ان ) میں سے ہیں*غزوۂ بدر ، اُحْد وغیرہ میں شریک ہوئے([1]) آپ کی شُجاعت و بہادری بہت مشہور و معروف ہے*مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کی شہادت کے بعد آپ مسندِ خِلافت پر تشریف فرما ہوئے([2])* آپ نے 4 سال ، 8 ماہ اور 9 دِن تک خِلافت کی ذِمَّہ داریاں نہایت حُسْن و خوبی کے ساتھ انجام دِیں([3]) *17یا 19 رَمْضَانُ الْمُبارَک سن 40 ہجری کو ایک خبیث خارِجی کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہو گئے اور 21رَمَضان شریف اتوار کی رات جامِ شہادت نوش فرما گئے۔([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
شانِ مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ
اے عاشقانِ رسول! آئیے! مولیٰ علی شیرِ خُدا رَضِیَ اللہُ عنہ کی شان میں وہ اَحَادِیث جو مسلمانوں کی امّی جان حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ عنہا لوگوں کو سُنایا کرتی تھیں، وہ سُنتے ہیں، یُوں سیّدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ عنہا کا ذِکْرِ خیر بھی ہو جائے گا اور مولیٰ علی شیرِ خُدا رَضِیَ اللہُ عنہ کے ذِکْر کی برکتیں بھی نصیب ہو جائیں گی۔