Mola Ali Aur Fikr e Akhirat

Book Name:Mola Ali Aur Fikr e Akhirat

عَشرے کے آخری اَیّام، اِسلامی لحاظ سے یہ بہت تاریخی دِن ہیں * 17 رَمْضَانُ الْمُبارَک کو حق و باطِل کا عظیمُ الشان مَعْرکہ یعنی غزوۂ بدر ہوا، یہ اتنا عَظمت والا دِن تھا کہ اللہ پاک نے اسے یَوْمُ الْفُرْقَان(یعنی حق اور باطِل میں فرق کر دینے والا دِن) فرمایا۔ مسلمان 313 کی تعداد میں تھے اور غیر مُسلموں کا لشکر ایک ہزار سے بھی زیادہ کا تھا، دِن بھی ماہِ رَمْضَان کے تھے، اس کے باوُجُود صحابۂ کرام     رَضِیَ اللہُ عنہم    نے کمال ہمّت دکھائی، غزوے میں شریک ہوئے اور وہ کُفّارِ مکہ جو دِینِ اسلام کو دُنیا سے مٹا ڈالنے کی دِن رات کوشش کرتے تھے، صحابۂ کرام    رَضِیَ اللہُ عنہم    کو سخت سے سخت تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے، ان کے پاس مال بھی تھا، طاقت بھی تھی، اَفرادِی قُوَّت بھی زیادہ تھی مگر صحابۂ کرام    رَضِیَ اللہُ عنہم    کے جذبۂ ایمانی کے سامنے نہ ان کا مال کام آیا، نہ طاقت کام آئی، نہ ہی اَفرادِی قُوَّت کچھ کر سکی، اس روز اللہ پاک نے مسلمانوں کو وہ عظیمُ الشّان فتح نصیب فرمائی کہ اس سے حق اور باطِل میں فرق واضِح ہو گیا۔([1]) * اسی طرح 19 رَمْضَانُ الْمُبارَک کو پیارے آقا   صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم   کی پیاری شہزادی حضرت رُقَیَّہ     رَضِیَ اللہُ عنہا     کا عرسِ پاک ہوتا ہے، جب پیارے آقا   صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم   غزوۂ بدر کیلئے روانہ ہوئے، اس وقت آپ بیمار تھیں، 19 رَمْضَانُ الْمُبارَک کو جب غزوۂ بدر میں فتح کی خوشخبری مدینے پہنچی، اس وقت لوگ حضرت رُقَیَّہ     رَضِیَ اللہُ عنہا     کو دفن کر  رہے تھے۔ ([2])

اللہُ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! یہ کیسی بڑی قربانی ہے...!! شہزادی صاحبہ بیمار تھیں، اس کے باوُجُود رسولِ ذِیشان، مکی مَدَنی سلطان   صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم   اِسلام کی سربلندی کے لئے بدر میں تشریف لے گئے...!!


 

 



[1]...سیرت مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ، صفحہ:210تا232ملتقطاً ۔

[2]...بذل القوۃ، القسم الثانی، الباب الثالث، الفصل الثانی فی حوادث...الخ، صفحہ:430۔