Talib e Ilm e Deen Par Karam Ho Gaya

Book Name:Talib e Ilm e Deen Par Karam Ho Gaya

درمیان صِرْف 2 درجات کا فاصِلہ رِہ گیا، ایک درجہ وہ جہاں سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  دیگر انبیائے کرام  عَلَیہمُ السّلام  کے ساتھ تشریف فرما ہیں اور دوسرا درجہ وہ جہاں صحابۂ کرام   علیہمُ الرِّضْوَان   اور پچھلے نبیوں پر ایمان لانے والے موجود ہیں، ان 2درجات کے بعد جو درجہ ہے وہ عُلَمائے کرام اور طُلَبائے عِلْمِ دِین کے لئے ہے۔ طالِبِ عِلْمِ دین  نے اللہ پاک کی عنایات کا مزید ذِکْر کرتے ہوئے کہا: میں جب عُلَمائے کرام والے درجے میں پہنچا تو وہاں موجود عُلَمائے کرام نے میرا خوب اچھے طریقے  سے استقبال کیا، پھر اللہ پاک نے ہمیں خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا: اے گروہِ عُلَما...! یہ میری جنّت ہے، یہ میں نے تمہیں عطا کی، یہ میری رِضا ہے، بےشک میں تم سے راضِی ہوا، میں تمہیں عطا فرماؤں گا، جس کی تم خواہش کرو گے اور جس جس کی تم شفاعت کرو گے، میں تمہاری شفاعت قبول فرماؤں گا۔

علّامہ اِبْنِ بطّال  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  یہ ایمان افروز واقعہ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ تمام فضائِل اُن کے لئے ہیں جو صرف و صرف اللہ پاک کی رضا کے لئے عِلْمِ دین سیکھیں اور اپنے عِلْم پر عَمَل بھی کریں۔([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                                 صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

عِلْم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارَبّ!

 اے عاشقانِ رسول ! آپ نے سنا کہ خوش نصیب طالِبِ عِلْم کو عِلْمِ دین کے لئے گھر بار چھوڑنے، خوب اِخْلاص اور محنت و لگن کے ساتھ طلبِ عِلْمِ دین میں مَصْرُوف رہنے کی کیسی برکات نصیب ہوئیں، ذرا تَصَوُّر تو کیجئے! یہ نوجوان کیسا خوش بخت تھا، اس نے عِلْمِ دین


 

 



[1]...شرح صحیح بخاری لابن بطال، کتاب العلم، جلد:1، صفحہ:134و135۔