Book Name:Talib e Ilm e Deen Par Karam Ho Gaya
سیکھنے کی خاطِر اپنا گھر بار چھوڑا، ماں باپ اور عزیز رشتے داروں سے جُدائی اختیار کی، مُلْکِ شام سے مدینۂ طَیِّبہ حاضِر ہوا، عِلْمِ دین سیکھتے سیکھتے اسے موت آئی تو انعام کیا ملا، وقت کے تمام بڑے بڑے عُلَما اس کے جنازے میں شریک ہوئے، وقت کے ائمہ کرام نے اسے قبر میں اُتارا، کرم بالائے کرم یہ کہ اللہ پاک نے اسے جنّت میں بلند درجات عطا فرمائے، اسے عُلَمائے کرام کے درجے میں مقام عطا فرمایا۔ سُبْحٰن اللہ! اللہ پاک ہمیں بھی عِلْمِ دین سیکھنا نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
عُلَمائے کرام کے درجات بلند کئے جاتے ہیں
پارہ28،سُوْرَۃُ الْمُجَادَلَۃ ،آیت:11میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-
ترجمہ کنزُ العرفان:اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کےدرجات بلند فرماتا ہےجنہیں علم دیا گیا۔
صحابئ رسول، سُلطانُ المفسرین، حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: عُلَمائے کرام عام مؤمنین سے 700 درجے بلند ہوں گے اور ان کے ہر 2درجوں کے درمیان 500 سال کی مسافت (یعنی دُوری) ہو گی۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! غور تو فرمائیے! عِلْمِ دین کی کیسی بلند شان ہے کہ عُلَما کو روزِ قیامت عام لوگوں سے بہت اُونچے درجات ملیں گے۔ حُجّۃُ الاسلام امام محمد بن محمد غزالی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ