Talib e Ilm e Deen Par Karam Ho Gaya

Book Name:Talib e Ilm e Deen Par Karam Ho Gaya

کو فرماتے سُنا: *جو عِلْمِ (دِین) سیکھنے کے لئے کسی رستے پر چلے، اللہ پاک اس کے لئے جنّت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے *بےشک فرشتے طالِبِ عِلْمِ (دِین) سے خوش ہو کر، اس کے لئے اپنے پَر بچھا دیتے ہیں *بےشک زمین و آسمان کی تمام مخلوق، یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی طالِبِ عِلْمِ (دین) کے لئے دُعائے مغفرت کرتی ہیں *بےشک عالِم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر *بےشک عُلَما انبیا کے وارِث ہیں، بے شک انبیائے کرام  علیہمُ السَّلام  ورثے میں دِرْہم و دِینار (یعنی مال و دولت) نہیں چھوڑتے، انبیائے کرام  علیہمُ السَّلام  تو ورثے میں صِرْف عِلْم چھوڑتے ہیں، پَس جس نے عِلْمِ (دین) حاصِل کیا، اس نے بڑا حِصَّہ حاصِل کر لیا۔([1])

عِلْمِ دین سے بڑھ کر کوئی عظمت نہیں

سُبْحٰن اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! طالِبِ عِلْمِ دین کی کیسی بلند شان ہے، طالِبِ عِلْمِ دین کے لئے جنّت کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے، طالِبِ عِلْمِ دین کے لئے فرشتے اپنے پَر بچھاتے ہیں، طالِبِ عِلْمِ دین کے لئے زمین و آسمان کی تمام مخلوق،  فرشتے، درخت، پتھر، چرند، پرند، یہاں تک کہ مچھلیاں بھی دُعائے مغفرت کرتی ہیں اور اَہَم ترین فضیلت یہ کہ عُلَمائے دِین انبیائے کرام  علیہمُ السَّلام  کے وارِث ہیں۔ حُجَّۃُ الْاِسْلام امام محمد بن محمد غزالی  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں: جس طرح نبوت سے بڑھ کر کوئی مرتبہ نہیں، اسی طرح نبوت کی وراثت (یعنی عِلْمِ دین) سے بڑھ کر کوئی عظمت نہیں۔([2])


 

 



[1]...ابن ماجہ، مقدمہ، باب فضل العلم، صفحہ:49، حدیث:223۔

[2]...احیاءُالعلوم مترجم، جلد:1، صفحہ:45۔