اِمپریشن

کتابِ زندگی

اِمپریشن

*   ابورجب عطاری مدنی

ماہنامہ صفر المظفر1442ھ

ہمارے معاشرتی ، سماجی ، دینی اور مذہبی معاملات میں امپریشن (شخصی تأثر) کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ جس کا امپریشن جتنا مثبت اور بہتر ہوگا وہ اپنی فیلڈ میں کام اتنا ہی بہتر انداز سے کرسکے گا ، اس کی اپنی عزّتِ نفس کا بھی تحفّظ ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے راحت ملے گی۔ جس کا امپریشن منفی ہوگا لوگ اس کے قریب آنے سے کترائیں گے ، اس کی عزّتِ نفس مجروح ہوگی اور وہ اپنے معاملاتِ زندگی بھی ٹھیک سے نہیں چلا پائے گا۔

انسان پہاڑ چڑھتے وقت عموماً بڑے پتھروں سے نہیں سنگریزوں (یعنی پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں) سے پھسلتا ہے اس لئے اپنا امپریشن بنانے کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ میں نے اس مضمون میں ایسی ہی 25 باتوں کی مختصر طور پر نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے جو ہمارے امپریشن کو مثبت یا منفی بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں : (1)ملنے والوں کی پہلی نظر ہمارے وجود پر ہی پڑتی ہے ، چنانچہ ہمارا حُلیہ ہمارا پہلا تعارف ہوتا ہے کہ ہم کس سوچ ، رویّے اور مزاج کے حامل ہیں!اگر ہمارے کپڑے ، جوتے ، بال اور ٹوپی یا عمامہ وغیرہ صاف ستھرے ، نفیس اور خوشبودار ہوں گے تو دوسروں پر اچھا تأثر چھوڑیں گے ، بصورتِ دیگر ہماری عزتِ نفس پر زَد پڑ سکتی ہے۔ (2)ہماری گفتگو ہماری سوچ کی ترجمان ہوتی ہے ، اس کی مدد سے دوسرا ہمارے اندر تک جھانک سکتا ہے کہ ہم کس قسم کا ذہن رکھتے ہیں!کسی نے کیا خوب کہا ہے : بولو تاکہ تم پہچانے جاؤ۔ ہمارا اندازِ گفتگو جتنا مہذّب ، شائستہ اور نرم ہوگا اتنا ہی سامنے والے پر اچھا امپریشن قائم ہوگا۔ (3)جس طرح ہماری زبان بولتی ہے اسی طرح جسم کے دیگر حصے ہاتھ پاؤں آنکھیں اور سر وغیرہ بھی بولتے ہیں جسے باڈی لینگویج (اعضا ءکی زبان) کہا جاتا ہے ، ہمارا بیٹھنے ، سننے ، چلنے پھرنے اور دیکھنے کا انداز ، ہاتھ پاؤں کی حرکات ، چہرے کے تأثرات (Expressions) بھی دوسروں کو بہت کچھ سمجھا دیتے ہیں کہ ہم انہیں اہم سمجھتے ہیں یاغیر اہم! ہم ان سے مل کر خوش ہیں یا ناخوش! ہم ان سے فرحت محسوس کررہے ہیں یا بے چینی! اس لئے باڈی لینگویج کے حوالے سے بھی محتاط رہنا چاہئے۔ (4)مسکراہٹ کسی بھی شخصیت کا عمدہ پہلوہوتی ہے جو دوسروں پر خوشگوار تأثر چھوڑتی ہے ، یہی مسکراہٹ نئے تعلقات کی بنیاد بھی بن سکتی ہے ، رونی یا غصیلی صورت والے کو عموماً لوگ منہ نہیں لگاتے۔ (5)نئے تعلقات کی بنیاد مال و دولت ، عہدہ ومنصب کے بجائے عمدہ کردار اور خُلوص پر رکھیں ، ورنہ مال ومنصب جاتے رہنے پر آنکھیں پھیر لینے والے معاشرے میں مَطلبی کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ (6)حوصلہ افزائی کی ضرورت دودھ پیتے بچے سے لے کر 100 سال کے بوڑھے تک کو ہوتی ہے ، آپ کے آس پاس اگر کوئی اچھا کام کرے تو حوصلہ افزائی (Appreciate)کرنے میں بُخل نہ کیجئے۔ (7)بولنا سب کو آتا ہےلیکن سننا کسی کسی کو آتا ہے ، بات کاٹنا کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا اس لئے پہلے دوسروں کی بات مکمل سن لیجئے پھر اپنی کہیے۔ (8)کسی سے ناراضی ہوجائے تو اپنا قصور ہونے کی صورت میں جلدمعافی تلافی کی کوشش کیجئے کیونکہ صلح میں تاخیر بھی ناراضی میں اضافے کی وجہ بن جاتی ہے۔ (9)آپ کے اِرد گِرد کے لوگ آپ کی توجّہ چاہتے ہیں ، ان کو نظر انداز کرکے اپنا امپریشن کمزور نہ کیجئے۔ (10)مصیبت و مشکل میں کسی کی ہمدردی و دلجوئی کی جائے تو اسے ہمیشہ یاد رہتی ہے ، سُستی کی وجہ سے اس اہم موقع کو ضائع نہ کیجئے۔ (11)ہر ناگوار بات پر مشتعل ہونے کی عادت سے لوگ آپ سے بیزار ہوسکتے ہیں ، خود کو ٹھنڈا رکھنے کی عادت بنائیے۔ (12)کسی کے دِل میں اپنی عزت کم کرنی ہو تو اس پر احسان جتادیا جائے ، لیکن آپ ایسا نہ کیجئے ، بعض اوقات ایسے انداز میں احسان جَتادیا جاتا ہے کہ جتانے والے کو پتا بھی نہیں چلتا ، مثلاً ایک شاگرد اپنی نئی گاڑی میں استاذ صاحب کو ان کے شہر چھوڑنے کے لئے نکلا ، ایسے میں اس کے منہ سے نکل گیا کہ میں نے سوچا کہ آپ کہاں بسوں میں خوار ہوں گے میں گاڑی پر چھوڑ آتا ہوں ، استاذ کو یہ بات بہت بُری لگی ، جواب دیا : بیٹا میں پہلے بھی بسوں میں خوار ہوچکا ہوں آج بھی ہوجاتا تو کونسی نئی بات تھی؟ یہ سُن کر شاگرد کتنا شرمندہ ہوا؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ (13)تحفے کے لین دین سے آپس میں محبت بڑھتی ہے ، لیکن تحفے کی قیمت پوچھنے سے کم بھی ہوسکتی ہے ، اسی طرح یہ کہہ کر تحفے کی اہمیت کم نہ کیجئے کہ میں اپنے لئے لایا تھا لیکن برابر فٹ نہیں آرہا اس لئے آپ کو دے دیا ، یہ سُن کر دوسرا کیا سوچے گا؟ یہ آپ خود ہی سوچ لیجئے۔ (14)ہمارے یہاں وقت کی پابندی کرنے والے کم پائے جاتے ہیں ، پھر لیٹ ہونے پر معذرت کی زحمت گوارا کرنے والے تو بہت ہی کم ہیں ، لیکن وقت کی پابندی کرنے والا بہرحال لوگوں کو اچھا لگتا ہے ، آپ بھی اس خُوبی کو اپنا لیجئے ۔ (15)وعدہ پورا کرنا ہمارے کردار کو اچھا بناتا ہے لیکن مشہور ہے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا (یعنی پورا) ہوجائے! وعدہ چھوٹی سی بات کا بھی ہوتو پورا کیجئے ، کسی کو فون پر یہ  کہہ کر کال  کاٹ دی کہ میں آپ کو کال بیک کرتا ہوں ، اب وہ بیچارہ انتظار کرتا رہ گیا لیکن آپ وعدہ پورا نہ کرنے پر معذرت بھی نہ کریں تو اس پر آپ کا امپریشن کیسا پڑے گا! غور کرلیجئے ۔ (16)فون ہوتا سب کے پاس ہے لیکن کرنا کسی کسی کو آتا ہے ، وہ یوں کہ جسے آپ نے فون کیا وہ ٹرین یا بس میں سوار ہونے جارہا ہے ، سیڑھیاں چڑھ رہا ہے ، کسی اہم میٹنگ میں ہے ، گاہگ کے ساتھ مصروف ہے؟ الغرض ہم اس کی مصروفیت کا اندازہ لگانے کی زحمت ہی نہیں کرتے بلکہ نان اسٹاپ شروع ہوجاتے ہیں جیسے وہ ہمارے لئے ہی فون ہاتھ میں لئے بیٹھا تھا۔ اگر شروع میں اس سے پوچھ لیا جائےکہ کیا ابھی دو یا تین منٹ بات ہوسکتی ہے پھر اس کی رضامندی کی صورت میں بات آگے بڑھائی جائےتو آپ کی شخصیت کا اچھا امیج قائم ہوگا۔ (17)ایک ساتھ رہتے ہوئے ہم ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ توقعات قائم کرلیتے ہیں ، اس کا لیول اگر مثبت رکھا جائے تو ہر ایک کے لئے بہتر ہوتا ہے ، کیونکہ بالکل توقعات نہ ہونا یا بہت زیادہ توقعات ہونا دوسروں کو پریشان کردیتا ہے۔ مثلاً اگر آپ اپنے بیٹے سے کہیں کہ مجھے تم سے توقع ہی نہیں کہ تم زندگی میں کوئی کامیابی حاصل کرسکو گے! یا یہ کہیں کہ کچھ بھی ہو تمہیں پوری یونیورسٹی میں ٹاپ کرنا ہے ، اب وہ پریشر میں آجائے گا جو اچھی بات نہیں۔ (18)دوسروں کی دلچسپی کا خیال رکھ کر گفتگو کی جائے کیونکہ جو اپنے کسی ذاتی مسئلے بیماری یا بےروزگاری یا مالی تنگدستی میں پھنسا ہوا ہو اسے کیا پروا کہ دنیا کے فلاں علاقے میں گلیشیئر پگھل رہے ہیں یا نہیں؟ یا فلاں حکومت کب تک چلے گی؟ (19)مانگ تانگ سے بچئے ، کیونکہ دینے والا جب بھی دیتا ہے واہ! کرکے نہیں آہ! کرکے دیتا ہے۔ انسان عموماً سواری ، موبائل وغیرہ مانگ کر استعمال کرنے والوں سے خوش نہیں ہوتا ۔ (20)مہمان ایک گھنٹے کا ہو یا ایک ہفتے کازیادہ دیر رکنے کا زیادہ اصرار کرکے اسے پریشان نہ کیجئے۔ بعض لوگ تو نہ رکنے پر ناراض ہوکر مہمان کو پریشان بھی کرتے ہیں اور اپنا امپریشن بھی خراب کرتے ہیں۔ (21)مشہور ہے “ قدر گھٹا دیتا ہے روز روز کا آنا جانا “  اگر ضرورت نہ ہوتو کچھ وقفہ دے کر ملاقات کرنا تعلقات کو دیرپا اور باقدر بناتا ہے ۔ (22)بے جاتنقید اورطنز و تمسخر سے بچئے ، یہ محبتوں کو کاٹ دیتے ہیں۔ (23) “ یہ نہ کرو ، ایسے نہ کرو “ بار بار سننا کسی کو اچھا نہیں لگتا ہے اس لئے کسی کو بار بار ٹوکنے سے بچئے ، ضرورتاً ایک مرتبہ بٹھا کر نرمی سے سمجھانے میں حرج نہیں۔ (24)کئی دکانوں پر لکھا ہوتا ہے :  “ ادھار محبت کی قینچی ہے “ جس سے تعلقات نبھانے ہوں اس سے قرض لینے سے پرہیز کیجئے اور اگر چار و ناچار لینا ہی پڑے تو وقت پر واپس کردیجئے۔ (25)انسان کا بچپن بعض ایسی باتوں پر بھی مشتمل ہوتا ہے جسے بڑے ہونے کے بعد دہرانا پسند نہیں کرتا جیسے ناک بہنا ، کیچڑ میں لت پت ہوجانا ، نہاتے وقت ماں سے مار کھانا ، اسی طرح کی اور چیزیں! بہرحال کسی عزّت دار کو اس کا ماضی یاد دِلاکر بےعزّت نہ کیجئے کہ دیکھو اب کتنے معزّز بنے بیٹھے ہو تم وہی ہو نہ جسے آم توڑنے پر مالی نے مُرغا بنا دیا تھا ، یا کھیت سے مُولی توڑنے پر تمہاری کیسی دھلائی ہوئی تھی! بچپن میں کیسے میلے کچیلے کپڑے پہنتے تھے اب کیسے سوٹڈبوٹڈ ہو۔ آپ اس قسم کی حرکتوں سے بچ کررہئے ورنہ امپریشن ایک مرتبہ بگڑ جائے تو دوبارہ بہتر بنانا دشوار ترین ہوتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں اپنے کردار کو بہتر بنانے والی خوبیاں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   مُدَرِّس مرکزی جامعۃالمدینہ ،  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 


Share