دستک

ننھے میاں کی کہانی

دستک

مولانا حیدر علی مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ دسمبر 2022

اتوار کی خوشگوار صبح تھی ، آسمان پر بادل ہونے کی وجہ سے موسم بھی بہت پیارا لگ رہا تھا۔ سبھی گھر والے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد کوئی نہ کوئی مصروفیت تلاش کر چکے تھے۔ ابوجان ہال میں رکھی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے کتاب کا مُطالَعہ کر رہے تھے۔ دادی جان قراٰنِ پاک پڑھنے کیلئے وُضو کرنے لگی تھیں۔لیکن  ننھے میاں کچھ دیر سے منہ بسورے اَمّی جان کے پیچھے پیچھے گھوم رہے تھے ، شاید چپکے چپکے کوئی فرمائش جاری تھی تبھی اَمّی جان کی آواز سنائی دی : ننھے میاں مجھے ابھی کچن کے کام دیکھنے ہیں ، آج ویسے بھی اتوار ہے تو سارے کچن کی دھلائی کرنی ہے ، پلیز! مجھے تنگ مت کرو۔

دادی جان جو وُضو سے فارغ ہو چکی تھیں ، بولیں : کیا ہوا بہو رانی؟ کچھ نہیں امی جان ، بس ننھے میاں کہہ رہے تھے کہ میرے ساتھ بیٹھ کر آرٹ اینڈ کرافٹ بنوائیں۔ امی جان کی بات سُن کر دادی جان بولیں : ننھے میاں آپی سے مدد مانگ لو ناں ، ویسے بھی وہ بناتی رہتی ہے تو اچھے سے گائیڈ کر دے گی۔

یہ سُن کر ننھے میاں آپی کو بلانے کیلئے اندر روم کی طرف چل پڑے۔ ننھے میاں نے کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ اندر سے آپی نے آواز دی : ننھے میاں! باہر ہی رکو ، میں آتی ہوں۔ ننھے میاں دادی جان کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر گزری ہوگی کہ آپی بھی آگئیں اور بولا : ننھے میاں جب بھی کسی کے کمرے میں جائیں تو اجازت لیا کریں۔ اپنے ہی گھر میں بھی اجازت؟ننھے میاں نے بگڑتے ہوئے کہا۔ دادی جان نے فوراً کہا : ابھی آپ جاؤ اور ننھے میاں کی آرٹ اینڈ کرافٹ بنانے میں مدد کرو ، باقی ننھے میاں کو میں خود سمجھادوں گی۔

دوپہر کے کھانے کے بعد ننھے میاں دادی جان کے پاس لیٹے ہوئے تھے ، دادی جان کو صبح والی بات یاد آ گئی تو کہنے لگیں : ننھے میاں آپ کو پتا ہے ناں ہمارا دینِ اسلام کتنا پیارا دین ہے جو  ہر قدم پر ہماری تربیت کرتا ہے۔ قراٰنِ مجید کے اٹھارویں پارے کی آیتِ مبارکہ کا ترجمہ ہے :  ” اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان میں رہنے والوں پر سلام نہ کرلو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت مان لو۔ “   ( ترجمۂ کنزالعرفان ، پ18 ، النور : 27 )  ننھے میاں توجہ سے دادی جان کی بات سُن ر ہے تھے۔ بیٹا جیسے دوسرے گھروں میں ہمیں اجازت لے کر جانا چاہئے ایسے ہی اپنے ہی گھر میں ایک دوسرے کے کمرے میں بھی اجازت لے کر داخل ہونا چاہئے۔

لیکن دادی جان اپنے ہی گھر میں کیسی اجازت؟ ننھے میاں کے سُوال پر دادی جان بولیں : آؤ آپ کو ایک حدیثِ پاک سناتی ہوں ؛  ایک مرتبہ ایک شخص نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا کہ کیا میں اپنی ماں کے پاس جاؤں تو اس سے بھی اجازت لوں؟ حُضور نے فرمایا : ہاں۔ انہوں نے کہا میں تو ان کے ساتھ اسی مکان میں رہتا ہوں۔ حُضور نے فرمایا : اجازت لے کر ان کے پاس جاؤ۔ ( موطأ امام مالک ، 2 / 446 ، حدیث : 1847 )  ننھے میاں بات یہ ہے کہ ممکن ہے کوئی اپنے کمرے میں کپڑے بدل رہا ہو لہٰذا ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی اَمّی ابو جان ، آپی ، بھائی وغیرہ سبھی کے کمرے میں جاتے ہوئے لازمی اجازت لینی چاہئے۔ ننھے میاں بولے : جی دادی جان! آئندہ اس بات کا خیال رکھوں گا۔


Share

Articles

Comments


Security Code