Book Name:Ghous e Pak aur Islah e Ummat
مُحْیُ الدِّین لقب کیسے مِلا...؟
حضور غوثِ اعظم رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :ایک مرتبہ جمعہ (Friday) کا دِن تھا، میں سفر سے واپس آ رہا تھا، راستے میں ایک جگہ میں نے بہت ہی کمزور (Weak) شخص کو دیکھا، اس نے مجھے سلام کیا، میں نے جواب دیا، وہ شخص بولا: مجھے اُٹھاؤ! میں نے اسے اُٹھا کر بٹھایا تو اچانک اس کا چہرہ بارونق اور جسم تروتازہ ہو گیا۔ میں حیران ہوا، اس پر وہ بولا: حیرت کی بات نہیں ہے، میں (آپ کے نانا جان حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا)دِین ہوں،(لوگوں کی بےرغبتی اور بے عملی کے سبب) میں کمزور ہو رہا تھا، اللہ پاک نے آپ کے ذریعے مجھے نئی زندگی عطا فرمائی، آپ مُحیُ الدِّین ہیں۔اس کے بعد جب میں بغداد پہنچا،نمازِ جمعہ ادا کی تو لوگ دوڑتے ہوئے میری طرف آئے اور یَا مُحْیَ الدِّیْنِ پُکارتے ہوئے میرے ہاتھ چومنے لگے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو!ہمارے پیر حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ مُحْیُ الدِّیْن ہیں، یعنی لوگوں میں بےعملی بڑھ رہی تھی، بد مذہبی زور پکڑ رہی تھی، لوگ دِین سے دُور ہو رہے تھے، سنتوں کو چھوڑ رہے تھے، نمازوں کا جذبہ کم پڑ رہا تھا، مال و دولت کی محبّت، منصب، عہدے اور تاج و تخت کی لالچ دِل میں گھر کر رہی تھی، ایسے حالات میں حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اِصْلاحِ اُمَّت کا بِیڑا اُٹھایا اور دِن رات محنت کر کے دِین کو دوبارہ زندہ فرما دیا۔
پیارے اسلامی بھائیو! حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی برکت سے لاکھوں کروڑوں