Book Name:Ghous e Pak aur Islah e Ummat
ہے: اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللہ یعنی مؤمن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ پاک کے نُور سے دیکھتا ہے۔([1])
فراست ایک نُور ہے جو اللہ پاک بندے کے دِل میں رکھ دیتا ہے۔([2])علّامہ مُنَاوی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وہ نُور جو اللہ پاک کامِل مؤمن کے دِل میں رکھ دیتا ہے، اس سے بندے کا دِل چمک کر شیشے کی طرح ہو جاتا ہے (جس میں ہر چیز صاف دِکھائی دیتی ہے)، لہٰذا اس نُور کی برکت سے بندہ پوشیدہ (Hidden) باتوں سے خبردار اور رازوں (Secrets) کو دیکھنے والا بن جاتا ہے۔([3])
الحمد للہ!ہمارے پِیر حُضُور شیخ عَبْدُالقَادِر جیلانی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کامِل مؤمن ہی نہیں بلکہ کامِلوں کے بھی اِمَام ہیں، پِیروں کے پِیر ہیں۔ آپ کو بھی رَبِّ کریم نے نُورِ فراست عطا فرمایا، آپ کی تو کیا ہی شان ہے۔ آپ خُود فرماتے ہیں:اے لوگو! اگر میری زبان پر شریعت کی رَوک نہ ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا جو تم گھروں میں کھاتے ہو اور جو بچا کر رکھ آتے ہو، اَنْتُمْ بَیْنَ یَدِیْ کَا لْقَوَارِیْرِ یُریٰ مَا فِی بَوَاطِنِکُمْ وَ ظَوَاہِرِکُمْ تم میرے سامنے شیشے کی بوتل کی طرح ہو، تمہارا ظاہِر باطِن سب کچھ نظر آتا ہے۔([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد