Book Name:Ghous e Pak aur Islah e Ummat
بالکل پابندی لگا کر سچ کو رواج دے دیا جائے تو ہمارا معاشرہ بہت ساری برائیوں سے پاک ہو جائے گا۔ بڑا مشہور (Famous) واقعہ ہے: ایک مرتبہ کسی شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! میں شراب بھی پیتا ہوں، چوری بھی کرتا ہوں اور جھوٹ بھی بولتا ہوں، ان تینوں میں سے صِرْف ایک بُرائی چھوڑ سکتا ہوں، بتائیے! کون سی چھوڑ دُوں؟ فرمایا: جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔
بس اس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا تو اس کی برکت سے دوسری دونوں بُرائیوں سے بھی نجات نصیب ہو گئی۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو!یہ ہے سچّ کی برکت...!!اپنی نیت میں سچّائی رکھنے، سچ بولنے،جھوٹ سے دُور رہنے کی برکت سے اللہ پاک کا قُرب ملتا ہے، بُرائیوں سے نجات ملتی ہے، توبہ کی توفیق نصیب ہو تی ہے اور بندہ سُدھر کر بلند مقامات تک پہنچنے کے لائق بن جاتا ہے۔
لہٰذا ہم سب پر لازم ہے کہ ہمیشہ سچ بولا کریں، جھوٹ سے ہمیشہ نفرت رکھا کریں۔
پیارے اسلامی بھائیو!اے غوثِ پاک کے دِیوانو!اے قادِریو!ہم نے غوثِ پاک رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی تعلیمات سُنیں،سلسلہ عالیہ قادریہ کے 3 بنیادی اُصُول سُنے: (1):مُجاہدہ (2):تَوَکُّل (3):صِدْق یعنی سچّائی۔ آج سے یہ نیت کیجئے! کہ یہ تینوں اُصُول اپنی زندگی میں نافِذ (Implement) کر کے حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے سچّے مرید بننے کی کوشش کریں گے۔اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم!