Bani Israel Ki Gaye

Book Name:Bani Israel Ki Gaye

بعد کروں گا *2 سال بعد کروں گا، اس ارادے کے ساتھ ہم   اِنْ شَآءَ اللہ بھی لازمی کہا کریں اور اگر بالفرض اِنْ شَآءَ اللہ کہنا بُھول گئے تو کیا کرنا ہے؟ اللہ پاک فرماتا ہے:

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْت (پارہ:15،الکہف:24)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور جب تم بُھول جاؤ تو اپنے رَبّ کو یاد کر لو۔ 

یعنی اگر اِنْ شَآءَ اللہ کہنا بُھول گئے تو جب یاد آجائے اسی وقت کہہ لیا جائے، حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عنہما فرماتے ہیں:اگر سال بعد بھی یادآئے کہ ایک سال پہلے میں نے فُلاں ارادہ کیا تھا، اس پر اِنْ شَآءَ اللہ نہیں کہا تھا تو سال بعد ہی کہہ لے۔([1]) غرض جب یاد آئے اُسی وقت اِنْ شَآءَ اللہ کہہ لیا جائے۔

اِنْ شَآءَ اللہ کہنے کی چند برکتیں

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہئے کہ اس سُنَّتِ مصطفےٰ پر عمل کریں اور اِنْ شَآءَ اللہ کہنے کی عادت بنائیں۔ اِنْ شَآءَ اللہ کہنے کی بہت برکتیں ہیں * اِنْ شَآءَ اللہ کہنے میں عقیدے کی اِصْلاح ہے * اِنْ شَآءَ اللہ کہنے میں عَمَل کی اِصْلاح ہے * اِنْ شَآءَ اللہ کہنے والا یہ اقرار کرتا ہے کہ میں بندہ ہوں اور بندہ اپنے مالِک کی مرضِی کے تابِع ہوتا ہے * اِنْ شَآءَ اللہ کہنے والا اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ میں کچھ نہیں، میری مرضِی کچھ نہیں، جو کچھ ہے صِرْف میرا مالِک ہے، میرے پیارے اللہ پاک کی مرضِی کے بغیر پَتَّہ بھی نہیں ہِل سکتا * اِنْ شَآءَ اللہ کہنے والا تَوحِیْد کے تقاضوں پر عَمَل کرتا ہے * اِنْ شَآءَ اللہ کہنے میں خود پسندی کی کاٹ ہے * اِنْ شَآءَ اللہ کہنے میں غرور اور تَکَبُّر کی کاٹ ہے * اِنْ شَآءَ اللہ کہنے


 

 



[1]...تفسیر خازن، پارہ:15، سورۂ کہف، زیرِ آیت:24، جلد:3، صفحہ:161 خلاصۃً۔