Book Name:Bani Israel Ki Gaye
قَالَ اللہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْکَرِیْم(اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے):
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًاؕ-قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(۶۷) (پارہ:1، البقرۃ:67)
صَدَقَ اللہُ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق کرتے ہیں؟ موسیٰ نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں ۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے پارہ:1، سُورۂ بقرہ کی آیت: 67 سُننے کی سَعَادت حاصِل کی ہے، یہاں سے لے کر آیت نمبر: 74 تک بنی اِسْرائیل کی ایک اَنوکھی گائے کا عجیب و غریب واقعہ ذِکْر کیا گیا ہے، یہی وہ واقعہ ہے جس کی نسبت سے اِس سُورت مُبارَک کا نام سُورۂ بَقَرَہ (یعنی گائے کے واقعہ والی سُورت) رکھا گیا ہے۔ اس واقعہ میں ہمارے لئے بہت کچھ سیکھنے کا موجود ہے، آئیے! پہلے واقعہ سُنتے ہیں، پِھر اِس سے ملنے والے سبق سیکھیں گے:
واقعہ کچھ یُوں ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بہت مالدار تھا، اُس کی اپنی تو کوئی اَوْلاد نہیں تھی، بھتیجے تھے، وہی اُس کی دولت کے وارِث تھے۔ ایک بھتیجے نے وِراثت کی لالچ میں اپنے چچا کو قتل کر دیا اور لاش دوسرے محلے میں ڈال دی۔ اب یہ قاتِل بھی خُود تھا اور مُدَّعِی بھی خُود بن گیا اور دعویٰ کر دیا کہ میرے چچا قتل ہو گئے ہیں، لہٰذا قاتِل کو