Book Name:Bani Israel Ki Gaye
کریں۔ اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! برکتیں ملیں گی۔
(3):اِنْ شَآءَ اللہ کہا کیجئے!
پیارے اسلامی بھائیو! گائے والے واقعہ سے تیسرا سبق یہ مِلا کہ ہمیں ہر آیندہ کے کام پر اِنْ شَآءَ اللہ کہنا چاہئے۔ دیکھئے! بنی اسرائیل گائے کے متعلق سُوال پر سُوال پُوچھ رہے تھے، جب انہوں نے کہا:
وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ(۷۰) (پارہ:1، البقرۃ:70)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اوراگر اللہ چاہے گا تو یقینًا ہم راہ پا لیں گے۔
اُس وقت مَقْصَد پُورا ہو گیا اور اُنہیں گائے کے متعلق تمام تفصیلات بتا دی گئیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: اگر بنی اسرائیل اِنْ شَآءَ اللہ نہ کہتے تو کبھی وہ گائے نہ پاتے۔([1])
اِنْ شَآءَ اللہ کہنے کا قرآنی حکم
ہمیں بھی چاہئے کہ اِنْ شَآءَ اللہ کہنے کی عادَت اپنائیں۔ پارہ:15، سورۂ کہف، آیت:23 اور 24 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ(۲۳) اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ٘- (پارہ:15، الکہف:23-24)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور ہر گز کسی چیز کے متعلق نہ کہنا کہ میں کل یہ کرنے والا ہوں مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
اِنْ شَآءَ اللہ کا معنی ہے: اگر اللہ پاک نے چاہا۔ ہم جب بھی کوئی ارادہ کریں مثلاً *میں 5منٹ بعد یہ کام کروں گا *10 منٹ بعد کروں گا *شام کو کروں گا *کل کروں گا *سال