Book Name:Bani Israel Ki Gaye
ماں کو تھپڑ مار دیا۔ ماں بیچاری گِری، آنکھوں میں کوئی چیز لگی اور اس کی دونوں آنکھیں چلی گئیں۔ اب اسے بہت دُکھ ہوا، یہ گھر سے نکلا اور جنگلوں کی طرف چلا گیا، کافِی عرصہ اللہ پاک کی عِبَادت کرتا رہا، شراب بھی چھوڑ دی، اپنے سارے گُنَاہوں سے توبہ بھی کر لی، ماں کی نافرمانی سے بھی توبہ کر لی، ایک عرصے تک عِبَادت کرتا رہا، کرتا رہا، ایک مرتبہ غیب سے آواز آئی: اے بندے...!! جب تک تُو اپنی ماں کو راضی نہیں کر لیتا، تیری عبادات قبول نہیں ہیں۔ اب یہ گھر آیا، ماں سے مُعَافِی مانگی مگر ماں نے مُعَاف نہ کیا، اس نے جذبے میں آ کر اپنا وہ ہاتھ ہی کاٹ دیا جس سے ماں کو تھپڑ مارا تھا، ماں نے اب بھی مُعَاف نہ کیا، اب اس نے لکڑیاں جمع کیں، ان کے اندر بیٹھ گیا اور کہا: ماں! اگر تُو نے معاف نہ کیا تو میں خُود کو آگ لگا لوں گا۔ اب ماں کو رحم آگیا، اِدھر ماں نے کہا: بیٹا! میں نے تجھے مُعَاف کیا۔ ساتھ ہی ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا، اس کا کٹا ہوا ہاتھ واپس جوڑ دیا اور ماں کی آنکھوں پر ہاتھ لگا کر روشنی واپس لوٹا دی۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! ماں باپ کی بات ماننے میں بھلائی، ان کی خِدْمت میں سَعَادت اور دوجہاں کی بلندی ہے جبکہ ان کی نافرمانی کرنے، حکم نہ ماننے اور بےادبی کرنے میں ذِلّت ہی ذِلّت ہے۔ اس لئے ماں باپ کے فرمانبردار رہیے! ان کی خِدْمت کرتے رہئے۔ اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! دِین و دُنیا کی بھلائیاں نصیب ہوں گی۔
ایک بات کی وضاحت کر دُوں؛ ماں باپ اگر کسی ناجائِز کام کا حکم دیں، مثلاً؛ *فرض نماز سے روکیں * فرض روزے سے منع کریں *داڑھی منڈانے کا حکم دیں تو ایسے