Book Name:Bani Israel Ki Gaye
سُبْحٰنَ اللہ! اللہ پاک کی کیسی قدرت ہے، وہ رَبِّ کریم چاہتا تو گائے کے بغیر بھی مُردے کو زِندہ فرما سکتا تھا مگر بنی اسرائیل وہ تھے جنہوں نے سَامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کی پُوجا کی تھی، چنانچہ اُن کے ہاتھوں سے گائے ذَبْح کروائی گئی۔ پِھر یہ بھی ممکن تھا کہ زندہ گائے کا کچھ حصَّہ لگانے سے ہی مردہ زِندہ ہو جاتا مگر رَبَّ قادِر و قدیر نے گائے کو ذَبْح کروایا اور یہ دِکھا دیا کہ جو رَبّ مردَہ گائے کے گوشت میں ایسا اَثَر پیدا فرما سکتا ہے، اُس رَبّ کی قدرتوں کی شان کیا ہو گی...!! بَھلا قیامت کے روز مُردے زِندہ کرنا، اسے کہاں مشکل ہے...؟
اَفلاک و اَرض سب تیرے فرماں پذیر(فرمانبردار) ہیں
حاکِم ہے تُو جہاں کے نشیب و فراز کا
ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دخل عقل کا ہے، نہ کام اِمتیاز کا([1])
آیاتِ کریمہ میں سیکھنے کی باتیں
پیارے اسلامی بھائیو! اس ایمان افروز قرآنی واقعہ میں ہمارے لئے سیکھنے کو بہت کچھ موجود ہے۔
(1):کثرتِ سُوال سے بچئے!
پہلی بات تو یہ سیکھنے کو مِلی کہ دِینی معاملات میں بےجا سُوالات سے بچنا چاہئے۔ دیکھئے! بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا: گائے ذبح کرو! یہ کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے، کام بَن جاتا مگر