Bani Israel Ki Gaye

Book Name:Bani Israel Ki Gaye

والا اپنی مرضی کو اللہ پاک کی مرضِی کے سپرد کر دیتا ہے اور جو بندہ اپنی مرضِی فَناکر دے، خُود کو اللہ پاک کی مرضِی کے سپرد کر دے، کامیابی اس بندے کے قدم چومتی ہے۔

کب اِنْ شَآءَ اللہ نہ کہا جائے...!

مشہور مفسرِ قرآن،حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:  ہر اُمِّید پر اِنْ شَآءَ اللہ کہنا ضَروری ہے ورنہ وہ اُمِّید پُوری نہ ہو گی۔ اِنْ شَآءَ اللہ کہنے میں عقیدے اور عمل کی اِصْلاح ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِنْ شَآءَ اللہ کہنے والا اپنی طاقت پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ رَبّ کی مدد پر بھروسہ کرتا ہے۔

ہاں! خیال رہے! صِرْف جائِز اور بہتر باتوں پر اِنْ شَآءَ اللہ کہنا چاہئے، حرام چیزوں،  بلاؤں اور آفتوں پر اِنْ شَآءَ اللہ نہیں کہا جائے گا۔ مثلاً *یہ کہو: اِنْ شَآءَ اللہ میں نماز پڑھوں گا، یہ نہ کہو کہ اِنْ شَآءَ اللہ میں چوری کروں گا *یوں کہو: اِنْ شَآءَ اللہ بیمار کو آرام ہو جائے گا۔ یہ نہ کہو: اِنْ شَآءَ اللہ بیماری پھیلے گی کہ بیماری بَلا اور آفت ہے، ایسا کوئی جملہ بولنا ہی پڑے تو لفظ   اندیشہ  استعمال کرنا چاہئے، مثلاً یُوں کہا جائے: مجھے اندیشہ ہے کہ وباء پھیلے گی۔ مجھے اندیشہ ہے کہ طوفان آئے گاوغیرہ۔ ایسی جگہ اِنْ شَآءَ اللہ کہنا درست نہیں۔([1]) 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

(5):والدین کا حکم مانئیے!

پیارے اسلامی بھائیو! گائے والے واقعہ سے چوتھا اور اہم ترین سبق یہ مِلا کہ ماں باپ کا حکم ماننے کی بہت برکتیں ہیں؛ دیکھئے! وہ نوجوان جس کی یہ گائے تھی، اُسے ماں نے حکم


 

 



[1]...تفسیر نعیمی، پارہ:1، سورۂ بقرہ، زیرِ آیت:70، جلد:1، صفحہ:467، خلاصۃً۔