Book Name:Bani Israel Ki Gaye
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عنہ کے دور کا واقعہ ہے، آپ نے باپ بیٹا دیکھے، دونوں بہت ہم شکل تھے، حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: اتنے زیادہ ہم شکل باپ بیٹا میں نے آج تک نہیں دیکھے۔ اُس شخص نے عرض کیا: عالی جاہ! میں آپ کو اُس سے بھی عجیب بات نہ بتاؤں...!! میری زوجہ اُمِّید سے تھی، اس وقت مجھے سفر پر جانا ہوا، (پہلے دور میں سَفَر پیدل ہوتے تھے، کہیں دور جانا ہوتا تو کئی کئی مہینے بلکہ سال بھی لگ جاتے تھے، چنانچہ) کہتا ہے: میں نے اپنے آنے والے مہمان کو اللہ پاک کے حوالے کیا اور سَفَر پر روانہ ہو گیا، کئی مہینوں کے بعد جب خوشی خُوشی گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں، گھر پر تالا لگا ہوا ہے، اَڑوس پڑوس سے پوچھا، پتا چلا کہ میری زوجہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی دُنیا سے چل بسی، اُس کا جنازہ پڑھ کر دفن کر دیا گیا۔ کہتا ہے: میں بہت دکھی ہوا، قبر پر پہنچا، فاتحہ وغیرہ پڑھی، شام کو دِل بہلانے کے لئے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اچانک دُور اپنی زوجہ کی قبر والی جگہ سے شعلے اُٹھتے دِکھائی دئیے۔ میں بڑا حیران ہوا، قبر کے قریب پہنچا، دیکھا کہ وہ شعلے نہیں بلکہ نُور ہے جو قبر کے اندر سے اُٹھ رہا ہے، جب قریب گیا تو دیکھا؛ قبر کھلی ہوئی ہے اور میرا بیٹا قبر کے اندر کھیل رہا ہے، غیب سے آواز آئی: اے بندے...!! اپنی امانت واپس لے لے، اگر بیوی کو بھی ہمارے حوالے کر جاتا تو اسے بھی پا لیتا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! کیا شان ہے ہمارے رَبِّ رحمٰن و رحیم کی...!! خیر! ہمیں بھی چاہئے کہ جب بھی کہیں جائیں، اپنا سب کچھ اللہ پاک کے سپرد کر دیا